1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

یورپ، پناہ کے لیے فیصلوں کا کس کو کتنا انتظار کرنا پڑا 

ایک جائزے کے مطابق گزشتہ دو سالوں میں یورپ آنے والے مہاجرین میں سے نصف سے زائد کی درخواستوں پر رواں سال کے آغاز تک عمل درآمد کیا جانا تھا۔ بہت سے تارکین وطن کے مطابق اس کی وجہ درخواستوں پر عمل کی رفتار کا سست ہونا ہے۔

واشنگٹن میں قائم پیو ریسرچ ادارے کا کہنا ہے کہ سن دو ہزار پندرہ اور سولہ میں یورپ کا رخ کرنے والے دو اعشاریہ دو ملین پناہ گزینوں میں سے، عارضی بنیادوں پر ہی سہی، محض چالیس فیصد کو رہائشی اجازت نامے مل سکے ہیں۔ دو سال میں آنے والے مہاجرین میں سے باون فیصد سن دو ہزار سترہ کے آغاز تک اپنی درخواستوں پر عمل درآمد کا انتظار کر رہے تھے۔ صرف تین فیصد کو اُن یورپی ممالک سے واپس بھیجا گیا جہاں وہ پناہ کے طالب تھے۔

یورپی یونین کے اعداد وشمار کے ادارے یورو اسٹیٹ اور سوئٹزر لینڈ اور ناروے سمیت یورپی یونین کے تمام اٹھائیس ممالک سے جمع شدہ تازہ ترین ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ مہاجرین کی درخواستوں پر عمل کے حوالے سے جرمنی نسبتاﹰ چُست رہا ہے۔ جرمنی میں شامی مہاجرین کی درخواستوں پر فیصلوں کی مدت تین ماہ رہی ہے۔ بیلجئیم میں انتظار کی مدت ایک ماہ جبکہ ناروے میں شامی مہاجرین کو ایک سال سے بھی زیادہ انتظار کرنا پڑا۔

سن دو ہزار پندرہ اور سولہ میں یورپ آنے والے چھ لاکھ پچاس ہزار شامی تارکین وطن میں سے صرف ایک لاکھ تیس ہزار کو دو ہزار سولہ کے آخر تک پناہ کی درخواستوں پر فیصلوں کا انتظار کرنا پڑا تھا۔

 یورپ بھر میں صرف جرمنی اور سویڈن ہی اپنے ہاں آنے والے تارکین وطن میں سے تقریباﹰ نصف کی درخواستوں پر عمل درآمد کر چکے ہیں۔ مجموعی طور پر البانوی مہاجرین کو سب سے زیادہ انتظار کرنا پڑا ہے۔ ان کے علاوہ  افغانستان اور عراق جیسے تنازعات کے شکار ممالک کے پناہ گزینوں کو طویل انتظار کرنا پڑا۔

 سن دو ہزار سولہ کے آخر تک ستتر فیصد افغان مہاجرین پہلی بار دائر کردہ یا پھر اپیل پر فیصلوں کا انتظار کر رہے تھے۔ اس کے علاوہ چھیاسٹھ فیصد عراقی اور ستتر فیصد ایرانی مہاجرین بھی اپنی دائر کردہ درخواستوں پر فیصلوں کے منتظر تھے۔

پیو ریسرچ کے اعداد و شمار کے مطابق پناہ کے کیسز پر فیصلوں کا انتظار کرنے والے پناہ گزینوں میں کوسوو کے ستتر فیصد، سربیا کے چوہتر فیصد، روس کے بہتر فیصد، پاکستان کے سڑسٹھ فیصد، صومالیہ کے چھپن فیصد اور نائجیریا کے پچپن فیصد تارکین وطن شامل ہیں۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات