1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

یورپ نے امید توڑ دی، شامی مہاجرین ٹوٹے دل سے واپس جانے لگے

شامی باشندوں کے لیے یورپ کبھی ایک منزلِ خواب و امید ہوا کرتا تھا، جس کے لیے وہ اپنی زندگی تک داؤ پر لگانے کو تیار تھے، مگر شاید اب ان شامی مہاجرین کے دل اور امیدیں دونوں ٹوٹ چکے ہیں۔

پہلے یہ مہاجرین انسانوں کے اسمگلروں کو پیسے دے کر اور اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر یونان تک پہنچ گئے، تاہم یورپ وہ جگہ ہر گز نہیں تھے، جو ان مہاجرین نے سمجھ رکھی تھی۔ شمالی یونان میں پھنسے درجنوں مہاجرین اب ایک بار پھر اسمگلروں کو پیسے دے کر وطن واپس لوٹ رہے ہیں۔ یعنی مقدونیہ کی سرحد سے متصل شمالی یونان کا یہ گرد آلود اور بارشوں کی وجہ سے کیچڑ زدہ علاقہ خانہ جنگی کے شکار شام سے زیادہ خراب تر آماج گاہ ہے۔

بتایا گیا ہےکہ متعدد شامی مہاجرین اسمگلروں کو پیسے دے کر ترکی کی جانب رخ کر رہے ہیں، تاکہ وہ کسی طرح وہاں سے شام واپس پہنچ سکیں۔

ان مہاجرین کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ ان کے حوصلے اور امیدیں بحیرہء ایجیئن کی بلند موجووں سے زیادہ بلند اور مستحکم ہیں اور انہوں نے اپنے راستے کی ہر مشکل کو مٹا کر یورپ تک رسائی حاصل کی ہے، مگر اب لگتا یوں ہے کہ حوصلے رفتہ رفتہ پست ہو چکے ہیں اور امیدیں دم توڑ رہی ہیں۔

Griechenland Mazedonien Protest der Flüchtlinge

مہاجرین کو یونان کے کیمپوں میں مشکل حالات کا سامنا ہے

مقدونیہ اور دیگر بلقان ریاستوں کی جانب سے مارچ میں اپنی ملکی سرحدیں بند کر دینے کے بعد ہزاروں مہاجرین شمالی یونان میں مختلف مقامات پر پھنس کر رہ گئے، جہاں انہیں عارضی خیمہ بستیوں میں رہنا پڑا۔ تاہم اب یہ دباؤں یونان اور ترکی کی درمیانی سرحد کی جانب بڑھتا جا رہا ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق ڈیڈیموتیچو نامی علاقے میں سرحد سے تین کلومیٹر دور ایک ریلوے اسٹیشن میں ہر روز درجنوں مہاجرین نظر آتے ہیں، جن کی کوشش ہوتی ہے کہ کسی طور وہ دوبارہ ترکی پہنچ جائیں۔

ان مہاجرین میں موجود 27 سالہ عطیہ الجاسِم کا کہنا ہے کہ وہ اپنی بیوی اور ایک سالہ بیٹی کے ہم راہ یونان آیا تھا، اور مقدونیہ کی سرحد کے قریب وہ ایک ٹینٹ میں کئی ماہ تک اس انتظار میں رہا کہ شاید یہ سرحد کھل جائے اور وہ مغربی یورپ کی راہ لے۔ تاہم امیدیں ٹوٹ جانے کے بعد اب وہ یونان کے مشرقی کی جانب بڑھ رہا ہے، تاکہ واپس ترکی جا سکے۔ ’’میں ترکی جا رہا ہوں۔ میں اب یورپ نہیں جانا چاہے۔ بات ختم۔‘‘

DW.COM