1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

یورپ میں ہر سال بائیس ملین ٹن خوراک ضائع، سرفہرست برطانیہ

یورپی یونین کے رکن ملکوں میں ہر سال بائیس ملین ٹن خوراک ضائع کر دی جاتی ہے اور اس عمل میں برطانیہ باقی تمام رکن ملکوں سے آگے ہے۔ یہ بات یورپی کمیشن کی طرف سے کرائے گئے ایک نئے مطالعے کے نتیجے میں سامنے آئی ہے۔

برطانوی دارالحکومت لندن سے بدھ بارہ اگست کے روز موصولہ نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق اس نئی تحقیق کے نتائج آج ہی Environmental Research Letters نامی جریدے میں شائع ہوئے۔ اس مطالعے کے دوران محققین نے یورپی یونین کے رکن چھ ملکوں سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کا تفصیلی تجزیہ کیا۔

اس مطالعے کے دوران اس پہلو پر بھی توجہ دی گئی کہ یورپی یونین میں ہر سال صارفین جتنی خوراک کوڑے میں پھینک دیتے ہیں، اس کی صورت میں سالانہ بنیادوں پر کتنا پانی اور اہم نائٹروجن وسائل ضائع کر دیے جاتے ہیں۔

اس اسٹڈی کے نتائج کے مطابق یونین کے رکن ملکوں میں سالانہ جتنی خوراک ضائع کر دی جاتی ہے، اس میں سے 80 فیصد کے قریب ایسی اشیائے خوراک ہوتی ہیں، جن کے ضیاع سے بچا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں قومی سطح پر برطانیہ کا ریکارڈ سب سے خراب ہے۔

نتائج کے مطابق برطانیہ میں ہر سال اتنی زیادہ خوراک ضائع کر دی جاتی ہے کہ اس کا مجموعی حجم روزانہ اور فی کس بنیادوں پر پھلیوں یا بینز کے ایک ڈبے کے برابر بنتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں برطانیہ میں اگر ہر شخص ہر روز بینز کا ایک ڈبہ کوڑے میں پھینک دے تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہاں سال بھر میں کتنی زیادہ خوراک کوڑے میں پھینک دی جاتی ہے۔

Klima Ausflug

کوڑے میں پھینکی جانے والی خوراک میں زیادہ تر سبزیاں اور پھل ہوتے ہیں

یونین کے رکن ملکوں میں سے جس ایک ریاست میں مقابلتاﹰ سب سے کم خوراک ضائع کی جاتی ہے، وہ رومانیہ ہے۔ لیکن تقابلی بنیادوں پر وہ بھی اتنی زیادہ ہے کہ جیسے رومانیہ میں ہر شہری ہر روز ایک سیب کوڑے میں پھینک دیتا ہو۔

اس مطالعے کے نتائج کے مطابق پوری یورپی یونین میں عام شہری ہر سال مجموعی طور پر قریب 22 ملین ٹن اشیائے خوراک ضائع کر دیتے ہیں۔ محققین کے بقول یورپی شہریوں کو اس بارے میں زیادہ باشعور بنانے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے زیر استعمال آنے والی خوراک کی باقاعدہ منصوبہ بندی کرتے ہوئے زیادہ محتاط انداز میں شاپنگ کیسے کر سکتے ہیں۔ اس طرح نہ صرف ان کی خوراک کی خریداری پر آنے والی لاگت بہت کم ہو جائے گی بلکہ کوڑے میں پھینکی جانے والی اشیائے خوراک کے باعث ماحول پر پڑنے والے منفی اثرات کو بھی کم کیا جا سکے گا۔

اس تحقیق کی نگرانی کرنے والے یورپی کمیشن کے جوائنٹ ریسرچ سینٹر کے ایک ماہر ڈیوی وین ہیم کا کہنا ہے، ’’اتنی زیادہ خوراک کا ضائع کیا جانا قابل افسوس ہے۔ لیکن اس منفی حقیقت کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ اس ضیاع کو روکا جا سکتا ہے۔ یعنی ہم اس رجحان کے خلاف کافی کچھ کر سکتے ہیں۔ بہت سی خوراک ابھی ’اچھی اور قابل استعمال‘ حالت میں ہوتی ہے، لیکن اسے اس لیے تلف کر دیا جاتا ہے کہ سٹوروں اور دکانوں میں اس کی فروخت کے لیے مقررہ تاریخ گزر جاتی ہے۔‘‘

Kambodscha Bildergalerie Ein Leben im Müll

ایشیا اور افریقہ کے کئی ملکوں میں بے شمار انسان زندہ رہنے کے لیے اپنی خوراک کوڑے میں سے تلاش کرنے پر مجبور ہیں

اس مطالعے کے دوران برطانیہ، ہالینڈ، ڈنمارک، فن لینڈ، جرمنی اور رومانیہ سے حاصل کیے گئے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔ پتہ یہ چلا کہ کوڑے میں پھینکی جانے والی زیادہ تر خوراک سبزیاں، پھل اور کارن فلیکس وغیرہ پر مشتمل وہ سیریئلز ہوتے ہیں، جن کی بروقت فروخت کا عرصہ یا ’شیلف لائف‘ بہت کم ہوتی ہے۔

لیکن ضائع کی جانے والی اس خوراک میں گوشت بھی شامل ہوتا ہے، اور قابل استعمال گوشت کے ضیاع کا نائٹروجن اور آبی وسائل کے ضیاع کی صورت میں مجموعی منفی ماحولیاتی اثر کہیں زیادہ ہوتا ہے۔

یورپی کمیشن کے جوائنٹ ریسرچ سینٹر کے ماہر ڈیوی وین ہیم کے بقول اس اسٹڈی کے دوران ماہرین نے یونین کے رکن 28 میں سے صرف چھ ملکوں سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کو ہی اپنی ریسرچ کی بنیاد بنایا کیونکہ باقی رکن ریاستوں سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار ممکنہ طور پر بہت قابل اعتماد نہیں تھے۔

DW.COM