1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’یورپ میں مہاجرین کی آمد رکی نہیں‘

کیتھولک چیرٹی ادارے کاریتاس کے برلن میں واقع دفتر نے خبردار کیا ہے کہ شامی مہاجرین کی یورپ آمد کا سلسلہ جاری ہے اور یورپی یونین کو ایسے ممالک کی زیادہ مدد کرنا چاہیے، جہاں یہ بحران زیادہ شدید ہے۔

عالمی سطح پر امدادی کاموں میں مصروف عمل بین الاقوامی امدادی ادارے کاریتاس کی جرمن شاخ نے کہا ہے کہ یورپ میں شامی مہاجرین کی آمد کا سلسلہ ابھی تک ختم نہیں ہوا ہے جبکہ ہزاروں مہاجرین اور تارکین وطن یونان اور بلقان کی متعدد ریاستوں میں محصور ہیں۔

برلن دفتر میں اس ادارے کے سربراہ پیٹر ناہر کے بقول لاکھوں مہاجرین انتہائی ابتر صورتحال میں بلقان کی ریاستوں میں موجود ہیں، جو شمالی یورپی ممالک جانا چاہتے ہیں۔

اس ادارے کی سالانہ پریس کانفرنس میں ناہر نے مزید کہا کہ ایسے ممالک کی مدد کرنے کی ضرورت ہے جہاں یہ مہاجرین پھنسےہوئے ہیں۔

ناہر نے کہا کہ ترکی اور یورپی یونین کی ڈیل کی وجہ سے بحیرہ ایجیئن سے یونان پہنچنے والے مہاجرین کی تعداد میں کمی ہوئی ہے لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا کہ مہاجرین کی آمد کا سلسلہ تھم گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین یو این ایچ سی آر کے اعداد وشمار کے مطابق بلقان کی ریاستوں میں اب بھی پچاس ہزار مہاجرین موجود ہیں، جو شمالی یورپی ممالک کی طرف بڑھنا چاہتے ہیں۔

ان میں سے زیادہ تر مہاجرین ہنگامی شیلٹر ہاؤسز میں رہنے پر مجبور ہیں، جو زیادہ تر منظم مہاجر کیمپوں میں جانے سے گریز کرتے ہیں کیونکہ انہیں ملک بدری کا خطرہ لاحق ہے۔

ناہر کے بقول ایسے بہت سے مہاجرین کو اب بھی امید ہے کہ وہ کوئی نہ کوئی راستہ اختیار کرتے ہوئے اپنی من پسند منزل پہنچ جائیں گے۔ انہوں نے یورپی یونین پر زور دیا ہے کہ وہ یونان اور بلقان کی ریاستوں کو زیادہ بہتر مالی وسائل فراہم کرے تاکہ مہاجرین کے بحران تلے دبے یہ ممالک مناسب اقدامات اٹھا سکیں۔

Peter Neher Präsident des Deutschen Caritasverbands

پیٹر ناہر کے بقول لاکھوں مہاجرین انتہائی ابتر صورتحال میں بلقان کی ریاستوں میں موجود ہیں، جو شمالی یورپی ممالک جانا چاہتے ہیں

سن 1987 میں وجود میں آنے والا امدادی ادارہ کاریتاس عمومی طور پر مہاجرین سے متعلق طے پانے والے عالمی معاہدوں کے خلاف ہے۔ یہ ادارہ یورپی یونین کی طرف سے مہاجرین کو لیبیا جیسے ممالک واپس روانہ کرنے کے بھی خلاف ہے۔

ناہر نے کہا کہ اسی طرح افغان مہاجرین کو ملک بدر کرنا بھی درست نہیں کیونکہ وہاں طالبان کی شدت پسندی میں اضافے کی وجہ سے خطرات بڑھ چکے ہیں۔