1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورپ میں مہاجرین کی آمد روکنے پر یورپی یونین میں اتفاق رائے

یورپی یونین میں تارکین وطن کی آمد روکنے کے لیے ایک نئی سرحدی اور کوسٹ گارڈ فورس کے قیام کا معاہدہ تشکیل دینے پر اتفاق رائے ہو گیا ہے۔

Griechenland Kreta Ankunft Flüchtlinge

نئی سرحدی فورس کا معاہدہ تارکین وطن کی یورپ آمد کے معاملے سے نمٹنے کے لیے یورپی بلاک کی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے

اس معاہدے کے تحت نئی مشترکہ یورپی فورس یونان اور اٹلی جیسے ممالک، جہاں مہاجرین کی رسائی آسان ہے، کی بیرونی سرحدوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے زیادہ اختیارات کی حامل ہو گی۔

اٹھائیس رکنی یورپین یونین اور یورپی پارلیمنٹ کے مذاکرات کاروں نے آج بدھ کے روز کہا ہے کہ انہوں نے یورپی کمیشن کی جانب سے موسم گرما تک فوج کی تعیناتی کی تجویز کی حمایت کی تھی۔ امید ہے کہ آئندہ ہفتے اس معاملے پر ایک اہم کمیٹی میں یورپی پارلیمان ووٹنگ کرے گی۔ اور اگر رائے شماری اس تجویز کے حق میں ہو جاتی ہے تو اس پر عمل درآمد کے لیے آئندہ ماہ فرانسیسی شہر شٹراس برگ میں مکمل اجلاس بلایا جائے گا۔ یورپی کمیشن کے صدر اور فورس کے قیام کی تجویز کے مرکزی پیش کار ژاں کلود ینکر کا کہنا تھا، ’’یورپی سرحد اور کوسٹ گارڈ کی تخلیق کے معاہدے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یورپ مشترکہ چیلنجز سے تیزی سے نمٹنے اور دل جمعی سے کام کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔‘‘

Griechenland Treffen Juncker und Tsipras

ینکر کے مطابق یورپ مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے

گزشتہ برس دسمبر میں یورپی یونین نے نئی فوج کے قیام کے معاہدے تک پہنچنے کے لیے 30 جون کی حتمی تاریخ متعین کی تھی۔ یہ معاہدہ تارکین وطن کی کثیر تعداد میں یورپ آمد کے معاملے سے نمٹنے کے لیے یورپی بلاک کی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔ رواں برس مارچ میں یورپی یونین اور ترکی کے مابین بھی اس قسم کا معاہدہ طے پایا تھا۔ برسلز، مہاجرین کے بحران میں مشکلات کا سامنا کرنے کے بعد اس سال ستمبر سے پاسپورٹ فری شینگن زون کی بحالی کے لیے ایک منصوبے کے تحت یونین کی بیرونی سرحدوں پر گشت میں اضافے کے آغاز اور نومبر تک ان کے مکمل نفاذ کا ارادہ رکھتا ہے۔ یورپی یونین میں شامل کئی ممالک نے بارڈر کنٹرول کو نئے سرے سے لاگو کیا ہے۔

Symbolbild Grenze Frontex

نئی مشترکہ یورپی فورس یورپی بارڈر ایجنسی فرونٹیکس کے حجم اور فرائض میں توسیع ہے

سرحدوں پر کنٹرول برسوں پہلے شینگن معاہدے کے تحت ہٹا دیا گیا تھا۔ تاہم سال 2015 کے آغاز سے مہاجرین کی یورپ میں ریکارڈ آمد کے ساتھ اسے دوبارہ شروع کیا گیا ہے۔ معاہدے کے تحت رکن ممالک اب بھی روزانہ کی بنیاد پر اپنی سرحدوں کو منظم رکھیں گے لیکن ہنگامی صورت حال میں 1500 سیکیورٹی محافظین کے مشترکہ دستوں سے مدد طلب کرنے کے مجاز ہوں گے۔ نئی فورس کو پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں قائم یورپی بارڈر ایجنسی فرونٹیکس کے حجم اور فرائض میں توسیع سمجھا جا سکتا ہے۔ یورپی پارلیمان کے مطابق نئی فورس معاشی وجوہات کی بنا پر یورپ پہنچنے والے مہاجرین کو ان کے آبائی ممالک واپس بھیجنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

اس معاملے پر سرکردہ یورپی مزاکرات کار آرٹس پابرک کا کہنا تھا، ’’ نئی فورس اس بات کو یقینی بنائے گی کہ یورپ کی بیرونی سرحدیں محفوظ اور بہتر طور پر منظم ہیں۔‘‘

DW.COM