1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

یورپ میں شديد سردی  کی لہر، مہاجرین کے لیے بھی خطرہ

متعدد افراد کی ہلاکت کا باعث بننے والی یورپ کے مختلف حصوں میں جاری شدید سردی کی لہر سے خدشہ ہے کہ یونان میں پھنسے ہزاروں غیر محفوظ تارکینِ وطن بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔

Kältewelle Europa Skopje Mazedonien (picture-alliance/dpa)

یورپ میں حالیہ دنوں میں ٹمپریچر نقطہ انجماد سے نیچے گر گیا ہے

یوں تو یونان میں خيوس کے جزیرے پر رہنے والے باقی ملک کی طرح ہلکے جاڑے کے عادی ہیں تاہم جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کو خيوس جزیرے کی ایک رہائشی جینی کالی پوسی نے بتایا ہے کہ شودا نامی مہاجر کیمپ میں صورتِ احوال بد تر ہو رہی ہے۔

 کالی پوسی کا کہنا تھا، ’’ کیمپ میں رہائشی مکانات میں عرصے سے گنجائش سے زائد مہاجرین سکونت پذیر ہیں اور وہ تارکینِ وطن جنہیں یہاں جگہ نہیں مل سکی، اب بجلی اور گرمائش کے انتظامات کے بغیر موسمِ گرما کے خیموں میں رہنے پر مجبور ہیں۔‘‘ جینی کالی پوسی  کے مطابق، ’’ بچے ہوں یا بڑے اگر خیمے سے باہر نکلیں تو اُنہیں برفیلی مٹی میں کھڑے ہونا پڑتا ہے۔‘‘

یہاں اِس وقت ترکی اور یورپی یونین کے درمیان مہاجرین کے حوالے سے ہونے والے ایک معاہدے کے مطابق لگ بھگ 15،500 تارکینِ وطن ترکی واپس بھیجے جانے کا انتظار کر رہے ہیں۔ ترکی اور یونین کے مابین مہاجرین کی آمد سے متعلق یہ معاہدہ گزشتہ برس مارچ میں طے پایا تھا۔ معاہدے کے مطابق ترکی سے غیر قانونی طور پر یونانی جزائر پر پہنچنے والے تارکین وطن کو واپس ترکی بھیجا جانا ہے۔

Griechenland Schnee in Flüchtlingsunterkunft auf Lesbos (Getty Images/AFP/STR)

جینی کالی پوسی  کے مطابق بچے ہوں یا بڑے اگر خیمے سے باہر نکلیں تو اُنہیں برفیلی مٹی میں کھڑے ہونا پڑتا ہے

 جرمن پولیس کے مطابق  ہفتے کے روز انسانوں کی اسمگلنگ کرنے والا ایک شخص  19 تارکینِ وطن کو بائرن کی موٹر وے سے دور ایک وین میں چھوڑ کر چلا گیا جبکہ درجہ حرارت منفی 20 ڈگری سینٹی گریڈ تھا۔ اِن تارکینِ وطن میں 14 بڑے اور پانچ بچے شامل تھے۔ موسم کی شدت جھیلنے والے اِن افراد کو طبی امداد فراہم کی گئی۔

خیال رہے کہ حالیہ دنوں میں یورپ کے ممالک میں درجہ حرارت نقطہ انجماد سے کئی درجے نیچے گِر چکا ہے۔  برف باری  اور موسم کی اِس شدت کے باعث یورپ بھر میں کئی اموات واقع ہوئی ہیں۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات