1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورپ میں شدت پسند نظریات سے مقابلے کا وقت ہے، کیمرون

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے تسلیم کیا ہے کہ ریاستی سطح پر کثیر الثقافتی نظام کی پالیسی ناکام ہوچکی ہے جس کے سبب نوجوان مسلم شہریوں کے شدت پسندوں کے ہاتھ لگنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

default

عالمی سلامتی سے متعلق میونخ کانفرنس میں ان کے خطاب کے مسودے میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے۔ جرمن شہر میونخ میں جمعہ چار فروری سے عالمی رہنماؤں کا تین روزہ اجتماع منعقدکیا جا رہا ہے، جس میں عالمی سلامتی کو لاحق مسائل پر غور ہورہا ہے۔

برطانوی وزیر اعظم کے خطاب کا مسودہ بین الاقوامی خبر رساں اداروں نے عام کیا ہے۔ اسے ’اسلامی عسکریت پسندی‘ سے متعلق وزیر اعظم کیمرون کے پہلے براہ راست خطاب کا نام دیا جارہا ہے۔

Jahrestag Bombenanschlag von London Blumen Bobby

لندن سب وے حملے میں مارے گئے افراد کی یاد میں شہریوں کی جانب سے رکھے گئے پھول

کیمرون نے یورپی ممالک پر زور دیا ہے کہ ’جاگیں‘ اور شدت پسند نظریات کو نظر انداز کرنے کے بجائے ان کا مقابلہ کریں۔ اُن سے قبل گزشتہ سال جرمن چانسلر انگیلا میرکل بھی کہہ چکی ہیں کہ جرمنی میں کثیر الثقافتی معاشرے کے قیام کی کوششوں کو ناکامی کا سامنا ہے۔ یورپی رہنما تارکین وطن کے بہتر انضمام کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔

ڈیوڈ کیمرون نے برطانیہ میں لسانی اور مذہبی اقلیتوں سے متعلق قومی پالیسیوں میں تبدیلی کا بھی عندیہ دیا ہے۔ ان کے مطابق یکساں حقوق، آزادی ء اظہار اور قانون کی بالادستی کے ذریعے قومی شناخت کو فروغ دیا جائے گا۔

وزیر اعظم کیمرون نے ان کوششوں کو ’زیادہ عام اور قوی لبرل ازم‘ کا نام دیا ہے، جس میں ممکنہ طور پر مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے برطانوں شہریوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کی متحرک کوششیں کی جائیں گی۔ کیمرون کے بقول، ’ اگر ہمیں اس خطرے ’عسکریت پسندی‘ کو شکست دینی ہے تو میرا ماننا ہے کہ ہمیں ماضی کی ناکام پالیسیوں کو بدلنا ہوگا۔‘

ڈیوڈ کیمرون کے مطابق ایسی تنظیمیں جو تشدد کے واقعات میں ملوث نہیں تاہم مغربی تہذیب کی مخالفت کرتی ہیں انہیں سرکاری وظائف سے محروم کردیا جائے گا اور جامعات میں ان کے اندراج پر پابندی عائد کردی جائے گی۔

Barack Obama beim Treffen mit David Cameron

برطانوی وزیر اعظم جولائی 2010ء میں دورہ ء امریکہ کے موقع پر

برطانیہ میں سن 2005ء کے لندن سب وے حملے کے بعد عسکریت پسندی سے جڑے خدشات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس خودکش حملے میں 52 شہری ہلاک ہوئے تھے۔ بین الاقوامی سطح پر سابق امریکی صدر جارج بش کی اعلان کردہ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ میں برطانیہ، امریکہ کا اہم ترین اتحادی تصور کیا جاتا ہے۔

برطانیہ کے وزیر اعظم نے کہا کہ ریاستی پالیسیوں کی وجہ سے مختلف تہذیبوں سے وابستہ افراد ایک دوسرے سے الگ تھلگ رہ کر زندگیاں گزار رہے ہیں۔ مئی 2010ء میں وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے والے قدامت پسند ڈیوڈ کیمرون کے مطابق اسی پالیسی کی وجہ سے برطانیہ میں قومی شناخت کی کمی محسوس کی جارہی ہے۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : عاطف بلوچ

DW.COM