1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورپ میں سولہ ہزار پروازیں منسوخ

آئس لینڈ میں آتش فشاں سے اٹھنے والے دھوئیں اور راکھ کے سبب پورے یورپ میں فضائی آمدورفت آج تیسرے روز بھی شدید متاثر ہے۔ جرمن چانسلر انگیلا میرکل بھی ایئر ٹریفک نظام درہم برہم ہونے سے متاثر ہوگئی ہیں۔

default

آئس لینڈ میں آتش فشاں سے اٹھنے والے دھوئیں اور راکھ کے سبب پورے یورپ میں فضائی آمدورفت آج تیسرے روز بھی شدید متاثر ہے۔ جرمن چانسلر انگیلا میرکل بھی ایئر ٹریفک نظام درہم برہم ہونے سے متاثر ہوگئی ہیں۔ یورپ بھر میں ہفتہ کو سولہ ہزار سے زائد پروازیں منسوخ کرنا پڑی ہیں اور یہ سلسلہ جاری رہنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔


لاکھوں فضائی مسافروں کو آج ایک اور بری خبر سننے کو ملی کہ ایئر ٹریفک کی موجودہ صورتحال کم از مزید کم پانچ دنوں تک جاری رہے گی۔ عام مسافروں کے ساتھ ساتھ عالمی رہنماؤں کو بھی ٹریفک آمدورفت کی خراب صورتحال نے مشکل میں ڈال دیا ہے۔

امریکی دورے کے بعد جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی وطن واپسی متوقع تھی تاہم تاہم ان کی پرواز کا رخ برلن کے بجائے لزبن کی طرف موڑنا پڑا۔ پولینڈ کے آنجہانی صدر لیخ کاچنسکی کی تدفین میں شرکت کے لئے اتوار تک یورپ آنے کی کوشش کرنے والے امریکی صدر باراک اوباما سمیت متعدد عالمی رہنما بھی متاثر ہوئے ہیں۔

Vulkanausbruch in Island Flughafen Heathrow London

یورپ کے تین بڑے ہوائی اڈے یعنی لندن کا ہیتھرو، پیرس کا چارلس ڈی گوال اور جرمنی کا فرینکفرٹ ہفتہ کو مکمل طور پر بند رہے، جس کے اثرات پوری دنیا میں محسوس کئے گئے

جرمن وزیر دفاع کارل تھیوڈور سو گٹن برگ بھی افغانستان سے واپس برلن نہ پہنچ سکے اور انہیں ترک شہر استنبول میں ہی رکنا پڑا۔

یورپ کے فضائی نظام پر نظر رکھنے والے ادارے ’یورو کنڑول‘ کے مطابق معمول کے دنوں میں ہفتہ کو یورپ میں تقریباً 22 ہزار پروازیں اُڑان بھرتی ہیں تاہم آج سترہ اپریل کو محض چھ ہزار پروازیں ہی ممکن ہوسکیں۔ جمعہ کو بھی 16 ہزار پروازیں منسوخ کرنا پڑی تھیں۔

برطانیہ، ڈنمارک اور جرمنی میں ہوائی اڈوں پر بیشتر پروازیں اتوار تک مکمل طور پر منسوخ کردی گئی ہیں۔ آئرلینڈ نے ہفتہ کی شام پانچ بجے تک، آسٹریا، بیلجیئم، فرانس اور سوئٹزرلینڈ نے شام چھ بجے تک جبکہ پولینڈ نے غیر معینہ مدت تک اپنی فضائی حدود میں کسی بھی قسم کی پروازوں کو داخل ہونے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

فرانسیسی دارالحکومت پیرس سمیت فرانس کے شمالی شہروں میں بھی ہوائی اڈے پیر تک بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

یورپ کے تین بڑے ہوائی اڈے یعنی لندن کا ہیتھرو، پیرس کا چارلس ڈی گوال اور جرمنی کا فرینکفرٹ ہفتہ کو مکمل طور پر بند رہے، جس کے اثرات پوری دنیا میں محسوس کئے گئے۔

Frankreich Flughafen Paris Orly Gepäckband Ausbruch Vulkan Island

ہفتہ کو یورپ میں تقریباً 22 ہزار پروازیں اُڑان بھرتی ہیں تاہم آج سترہ اپریل کو محض چھ ہزار پروازیں ہی ممکن ہوسکیں

موجودہ صورتحال میں فضائی کمپنیوں کو روزانہ کی بنیاد پر اوسطاً دو سو ملین یوروز کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

دوسری جانب برطانیہ کو دیگر یورپی ممالک سے بذریعہ ریل ملانے والی کمپنی ’یورو سٹار‘ کی چاندی ہوگئی ہے۔ اس کے پاس معمول سے کئی زیادہ مسافر آرہے ہیں۔

فضائی کمپنیوں کو خدشہ ہے کہ اگر راکھ اور دھوئیں کے بادل میں سے طیاروں کو گزارنے کی کوشش کی گئی تو انجن رک سکتا ہے، جو خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

گزشتہ بیس برسوں میں اسی نوعیت کے 80 واقعات سامنے آچکے ہیں، جس دوران مسافروں سے بھرے دو بوئنگ طیارے حادثے کا شکار ہوتے ہوتے بچے جبکہ 20 طیاروں کو شدید نقصان پہنچا۔

آئس لینڈ میں آتش فشاں بدھ کو پھٹا تھا، جس کے بعد مشرق کی سمت چلنے والی ہواؤں نے دھواں اور راکھ روس کی سمت اڑانا شروع کر رکھا ہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: گوہر نذیر گیلانی

DW.COM