یورپ میں سرما کا معیاری وقت، گھڑیاں ایک گھنٹہ پیچھے کیوں؟ | معاشرہ | DW | 30.10.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

یورپ میں سرما کا معیاری وقت، گھڑیاں ایک گھنٹہ پیچھے کیوں؟

جرمنی سمیت بہت سے یورپی ملکوں میں ہفتہ انتیس اکتوبر اور اتوار تیس اکتوبر کی درمیانی شب مغربی یورپ میں موسم سرما کے معیاری وقت کا آغاز ہو گیا ہے اور رات تین بجے تمام گھڑیاں ایک گھنٹہ پیچھے کر دی گئیں۔

اس طرح اتوار تیس اکتوبر کا دن گنا تو چوبیس گھنٹے کا ہی جائے گا لیکن اس کی طوالت پچیس گھنٹے ہو گی اور یوں گزشتہ رات یورہی باشندوں کو سونے کے لیے ایک گھنٹہ زیادہ ملا۔ مغربی یورپی ملکوں میں تمام گھڑیاں اس لیے ایک گھنٹہ پیچھے کر دی گئیں ہیں کیونکہ مارچ کے آخر میں موسم گرما کے معیاری وقت کے آغاز پر تمام گھڑیاں ایک گھنٹہ آگے کر دی گئی تھیں۔

بنیادی طور پر یہ نظام گرمیوں میں دن کی روشنی کو زیادہ استعمال کر سکنے کے لیے متعارف کرایا گیا تھا اور ہر سال گھڑیوں کو پہلے آگے اور پھر پیچھے مارچ اور اکتوبر کے آخری ویک اینڈز پر ہفتے اور اتوار کی درمیانی رات کو تین بجے کیا جاتا ہے۔

یوں مارچ کے آخری اتوار کا دورانیہ صرف 23 گھنٹے ہوتا ہے لیکن 24 گھنٹے گنا جاتا ہے، اسی طرح جیسے اکتوبر کے آخری اتوار کا دورانیہ 25 گھنٹے ہوتا ہے لیکن 24 گھنٹے گنا جاتا ہے۔ سماجی طور پر بہت سے یورپی شہریوں کا کہنا ہے کہ اس نظام کے تحت گرمیوں یا سردیوں کے کسی بھی دن کی طوالت پر کوئی فرق نہیں پڑتا، اور جس ایک گھنٹے سے وہ مارچ کے آخری اتوار کو سحری کے وقت محروم کر دیے جاتے ہیں، وہ انہیں سات ماہ بعد اکتوبر کے آخری اتوار کو واپس کر دیا جاتا ہے۔

سماجی طور پر ہی بہت سے یورپی شہریوں کے لیے معیاری وقت کی یہ تبدیلی ذہنی پریشانی کا باعث بھی بنتی ہے کیونکہ وہ اس بارے میں بے یقینی کا شکار ہوتے ہیں کہ انہیں کب اپنی گھڑیاں ایک گھنٹہ آگے اور کب ایک گھنٹہ پیچھے کرنا ہوتی ہیں۔

معیاری وقت میں تبدیلی کا یہ نظام جرمنی میں 1980ء میں متعارف کرایا گیا تھا اور اس کا مقصد گرمیوں میں سورج کی روشنی سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا اور توانائی کے ذرائع کو بہتر طور پر استعمال کرنا تھا۔

جرمنی میں ہر سال دو مرتبہ معیاری وقت میں تبدیلی کے اس نظام پر عمل درآمد کی ذمے داری شہر براؤن شوائیگ میں قائم فیڈرل فزیکل ٹیکنیکل اتھارٹی یا PTB کے پاس ہے۔ یورپ میں اکثر دستی گھڑیاں او گھروں یا دفتروں میں لگے ہوئے کلاک چونکہ ریڈیائی سنگل وصول کر سکتے ہیں، اس لیے ان میں وقت کی خود کار تبدیلی کی خاطر ایک ریڈیو سگنل اسی جرمن ادارے کی طرف سے بھیجا جاتا ہے۔

Zeitumstellung Atomuhr Physikalisch-Technischen Bundesanstalt (PTB) in Braunschweig

جرمنی میں معیاری وقت کا پیمانہ براؤن شوئیگ میں پی ٹی بی کی یہ ایٹمی گھڑی ہے

گھڑیوں کے لیے اس ریڈیو سگنل کی تیاری کے عمل میں پروگرامنگ وفاقی صوبے ہیسے میں مائن فلِنگن کے مقام پر قائم ادارے کی طرف سے کی جاتی ہے۔ سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر سال مارچ کے آخری اتوار کی سحری کے وقت دو اور تین بجے کے درمیان کا گھنٹہ غائب ہو جاتا ہے اور پورے دو بجے گھڑیاں آگے کر کے تین بجا دیے جاتے ہیں۔

اس کے برعکس ہر سال اکتوبر کے آخری اتوار کی سحری کے وقت پہلے تو معمول کے مطابق دو سے تین بجتے ہیں اور پھر تین بجے وقت ایک گھنٹہ یچھے کر کے دوبارہ دو بجے کر دیا جاتا ہے۔ اس طرح ایک ہی رات میں دو مرتبہ دو بجتے ہیں اور ماہرین نے ان کے لیے باقاعدہ دو مختلف نام رکھے ہوئے ہیں، یعنی 2A اور 2B۔

اس سے بھی دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ تمام ریل گاڑیاں اور پروازیں جنہیں رات دو بجے چلنا ہوتا ہے، وہ اپنی روانگی کے مقام پر پہنچ کر ایک گھنٹہ کھڑی رہتی ہیں اور اس وقت روانہ ہوتی ہیں جب تین بجنے پر دوبارہ دو بجا دیے جاتے ہیں۔