1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورپ میں سردی کی تازہ لہر سے سفری مشکلات

یورپ میں شدید سردی کی تازہ لہر کے نتیجے میں ٹرانسپورٹ کا نظام درہم برہم ہو گیا ہے۔ اس حوالے سے جرمنی سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، جہاں فرینکفرٹ میں یورپ کے دوسرے بڑے ہوائی اڈے پر ہفتہ کو 200 سے زائد پروازیں منسوخ کی گئیں۔

default

میڈرڈ ایئرپورٹ

فرینکفرٹ ایئرپورٹ پر برفباری کے باعث ہفتہ کو 226 پروازیں منسوخ کی گئیں۔ سینکڑوں مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

دارالحکومت برلن میں ٹیگیل اور شوئنے فیلڈ کے ہوائی اڈوں، جبکہ میونخ میں بھی ہفتہ کو متعدد پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔ اس سےقبل جمعہ کو نیوریم بیرگ ایئرپورٹ پر ایئربرلن کا طیارہ رَن وے پر پھسل گیا تھا۔ اس پر 133 افراد سوار تھے، جو محفوظ رہے۔

لندن میں یورپ کے سب سے بڑے ہوائی اڈے ہیتھرو پر بھی موسم کی شدت کے باعث 50 پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔ برطانیہ میں سردی کی تازہ لہر کو گزشتہ 30 برس میں شدید ترین قرار دیا جا رہا ہے۔

برطانیہ، فرانس اور بیلجیئم کو ملانے والی یورو اسٹار ٹرین سروس کا شیڈول بھی متاثر ہے۔ منتظمین نے مسافروں کو مجبوری کی حالت میں ہی سفر کرنے کے لئے کہا ہے جبکہ اتوار اور پیر کو سروس محدود ہونے کا عندیہ بھی دیا گیا ہے۔

BdT Spaziergaenger geniessen den zugeschneiten Schlosspark in Herten

جرمنی کے بیشتر علاقے شدید برفباری سے متاثر ہیں

برفباری کی وجہ سے جرمنی کے مختلف شہروں میں ٹریفک حادثات کی اطلاعات بھی ہیں۔ جنوب مغربی ریاست باڈین ووئرٹیم بیرگ میں 300 سے زائد ٹریفک حادثات ہوئے ہیں، جن کے نتیجے میں کم از کم 40 افراد زخمی ہیں۔ مغربی ریاست نارتھ رائن ویسٹ فیلیا میں ایسے 108 حادثات کی اطلاع ہے۔

بحیرہ بالٹک میں جرمن جزیرے فیہمارن کے میئر اُوے شمٹ کا کہنا ہے کہ علاقے میں شدید برفباری کے باعث صورت حال تباہ کن رُخ اختیار کر چکی ہے۔ اس تناظر میں فوج کی مدد طلب کی گئی ہے۔

جرمنی کے بعض دیگر علاقوں میں حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ کم از کم چار دن کے لئے اشیائے ضرورت کا ذخیرہ کر لیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویک اینڈ پر ہونے والی برفباری کے باعث بعض علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو سکتی ہے جبکہ لوکل ٹرانسپورٹ کا نظام بھی متاثر ہو سکتا ہے۔

ڈوسلڈورف سمیت مختلف شہروں میں ریڈ کراس کی جانب سے بے گھر افراد کے لئے گرم ٹینٹ لگائے گئے ہیں۔ گزشتہ کچھ ہفتوں کے دوران وہاں دس بے گھر افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

تیز ہواؤں اور مزید برفباری کی پیشن گوئی کے تحت جرمنی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک کا نظام بدتر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

برطانیہ میں گیس کے تقریبا ایک سو صنعتی صارفین کو استعمال کم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ تاہم وزیراعظم گورڈن براؤن کا کہنا ہے کہ رہائشی علاقوں کو گیس کی سپلائی بلاتعطل جاری رہے گی۔

یورپ کے دیگر بہت سے ممالک میں بھی سردی کی شدت اور برفباری سے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہیں۔ پولینڈ میں گزشتہ کچھ ہفتوں کے دوران ٹھنڈ کے باعث تقریبا 140 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

روس میں شمالی قفقاذ کے علاقے میں برفانی تودے گرنے سے پانچ کوہ پیما ہلاک ہو گئے ہیں۔ تاہم ان کے چار ساتھی بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔

یورپ میں کھیلوں کے متعدد ٹورنامنٹ اس موسم کی نذر ہو گئے ہیں، جن میں فٹ بال، اور رگبی کے مقابلے بھی شامل ہیں۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: افسر اعوان

DW.COM