1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورپ میں دہشت گردی کا گرم بازار، صالح عبدالسلام کی بے باکی

شینگن زون کی سفری آزادی کو شاید ہی کسی اور نے اتنے ہلاکت خیز مقاصد کے لیے استعمال کیا ہو، جتنا کہ صالح عبدالسلام نے کیا، جو نظروں میں آئے بغیر آزادی سے اِدھر اُدھر آتے جاتے ہوئے دہشت گردوں کو بھی ساتھ لے جاتا رہتا تھا۔

Salah Abdeslam Fahndungsfoto

یہ ہے وہ تصویر، جس کی مدد سے پولیس صالح عبدالسلام کو تلاش کرتی رہی

اکتوبر 2015ء: عبدالسلام تین افراد کو اُلم سے برسلز لایا

اکتوبر کے اوائل میں جرمن شہر اُلم سے تین مرد ستائیس سالہ عبدالسلام کی کار میں بیٹھے۔ جرمن تفتیش کاروں کو یقین ہے کہ وہ ان تینوں کو اپنے وطن بیلجیم کے دارالحکومت برسلز لے گیا۔ بہت سے ذرائع ابلاغ نے تفتیش کاروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ انہی تینوں میں برسلز ایئرپورٹ کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا وہ تیسرا شخص بھی شامل تھا، جو آج کل یورپ کا سب سے زیادہ مطلوب شخص ہے۔

اس شخص کی زیادہ شہرت ’ہَیٹ والے شخص‘ کی ہے۔ ایک قیاس یہ ہے کہ یہ شخص اٹھائیس سالہ شامی شہری نائم الحامد ہے، جو ستمبر میں شام سے یورپ آیا تھا۔ گویا اس بات کا قوی امکان ہے کہ عبدالسلام یورپ بھر میں گھوم پھر کر شام سے لوٹ کر آنے والے جنگجوؤں سے میل ملاقات میں رہتا تھا۔

ستمبر 2015ء: عبدالسلام داعش کے جنگجوؤں کو ہنگری سے بیلجیم لایا

اوائل ستمبر میں عبدالسلام ہنگری کے دارالحکومت بوڈاپیسٹ سے نجم العشراوی کو لے کر آیا۔ یہ وہی شخص تھا، جس نے بائیس مارچ کو برسلز کے ہوائی اڈے پر ابراہیم البکراوی کے ہمراہ خود کو دھماکے سے اڑا دیا اور ساتھ ساتھ پندرہ دیگر افراد کو بھی موت کی نیند سُلا دیا۔

Belgien Brüssel Anschlag Terror Verdächtiger Videostill

برسلز ایئرپورٹ کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا تیسرا شخص، جس کی زیادہ شہرت ’ہَیٹ والے شخص‘ کی ہے، آج کل یورپ کا سب سے زیادہ مطلوب شخص ہے

بیلجیم کے تفتیش کاروں کو یقین ہے کہ کار میں عبدالسلام کے ساتھ شام سے واپس آنے والا ایک اور جنگجو محمد بلقاید بھی بیٹھا ہوا تھا، جو پیرس حملوں کے سرغنوں میں سے ایک تھا۔ یہ تینوں بوڈاپیسٹ سے پہلے آسٹریا میں داخل ہوئے، جہاں ان کی چیکنگ بھی ہوئی۔ بلقاید اور العشراوی کے پاس بیلجیم کے جعلی پاسپورٹ تھے جبکہ عبدالسلام کے پاس درست شناختی کاغذات تھے۔ پھر ان تینوں کو بے ضرر قرار دے کر آگے جانے کی اجازت دے دی گئی۔ یورپ کے اندر تمام تر معلومات کے تبادلے کی صورت میں ان تینوں کو پکڑا اور یوں برسلز سانحے کو روکا جا سکتا تھا۔ بلقاید اور العشراوی شام سے یونان اور بلقان کے ممالک کے راستے ہنگری پہنچے تھے۔ یہ تینوں جرمن صوبے باویریا کے شہر کٹسِنگن میں بھی رُکے اور کہیں بھی انہیں چیکنگ کے دوران روکا نہیں گیا۔ عبدالسلام پیرس حملوں کے بعد بھی آزادانہ سفر کرتا رہا۔

نومبر 2015ء: عبدالسلام کا فرانس سے بیلجیم کی جانب فرار

تیرہ نومبر 2015ء کے روز صالح عبدالسلام کا پہلے تو پیرس کے اسٹیڈیم میں خود کو دھماکے سے اڑا دینے کا ارادہ تھا، جو اُس نے عین آخری لمحات میں ترک دیا۔ اُس نے کرایے پر لی ہوئی کار کو ایک جگہ لے جا کر کھڑا کر دیا اور بارودی جیکٹ سے بھی نجات حاصل کر لی۔ اُس لمحے تک اُس کے دَس میں سے سات ساتھی موت کی وادی میں اُتر بھی چکے تھے۔ پیرس حملوں کا سرغنہ اور عبدالسلام کا ایک پرانا دوست عبدالحامد اباعود اپنے ایک دوسرے ساتھی شکیب اکروہ کے ہمراہ پیرس ہی میں رُوپوش ہو گیا تھا، جہاں یہ دونوں اٹھارہ نومبر کو پولیس کے ایک چھاپے کے دوران مارے گئے۔

Soufiane Kayal / Najim Laachraoui Terrorverdachtiger Anschläge von Paris

نجم العشراوی کی یہ تصویر جعلی پاسپورٹ کے لیے استعمال کی گئی، جہاں اُس کا نام صوفیانے کایال کے طور پر درج تھا

اُس رات گیارہ بجے عبدالسلام نے برسلز میں اپنے ایک پرانے دوست کو فون کیا اور پیرس سے نکال لے جانے کی درخواست کی۔ چند گھنٹے بعد ہی اُس کا ایک اور دوست پیرس پہنچ گیا اور اُسے کار پر برسلز لے گیا۔ راستے میں تین بار اس کار کو روکا گیا اور پھر جانے دیا گیا۔ تب تک فرانس کی پولیس اس بات سے لاعلم تھی کہ پیرس دھماکوں میں عبدالسلام کا بھی کوئی ہاتھ ہے۔ پیرس حملوں میں ملوث ایک دہشت گرد نے جو کار استعمال کی تھی، اُسے عبدالسلام ہی نے کرایے پر لیا تھا۔

مارچ 2016ء: عبدالسلام پکڑا گیا لیکن حملہ نہ روکا جا سکا

برسلز پہنچ کر عبدالسلام کئی مہینے کے لیے رُوپوش ہو گیا۔ بالآخر پندرہ مارچ کو فرانس اور بیلجیم کی پولیس کی جانب سے برسلز کے ایک مشتبہ اپارٹمنٹ میں کی جانے والی ایک مشترکہ کارروائی میں ہتھیاروں اور بم بنانے کے ساز و سامان کے ساتھ ساتھ عبدالسلام کی انگلیوں کے نشانات بھی مل گئے۔

پھر عبدالسلام سے یہ غلطی ہوئی کہ اُس نے ایک ایسے شخص کو فون کر دیا، جس کی پولیس نگرانی کر رہی تھی اور یوں صالح عبدالسلام پکڑا گیا۔ تب پولیس کو لیکن یہ معلوم نہیں تھا کہ برسلز میں موجود دہشت گردوں کے ایک گروپ نے اب اپنے ایک مجوزہ دہشت پسندانہ منصوبے کو زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ عمل میں لانے کی تیاریاں شروع کر دی تھیں۔

Belgien Brüssel Molenbeek Festnahme Terrorist Salah Abdeslam

اٹھارہ مارچ کو بیلجیم کی پولیس نے برسلز سے صالح عبدالسلام کو گرفتار کر لیا، ساتھ ساتھ چار مزید مشتبہ دہشت گرد بھی پکڑے گئے

بائیس مارچ کو برسلز کے زیوینٹم ایئر پورٹ اور برسلز میٹرو پر کیے جانے والے دہشت گردانہ حملوں میں عبدالسلام کی کار میں برسلز آئے ہوئے العشراوی کے ساتھ ساتھ دونوں البکراوی براداران اور ممکنہ طور پر عبدالسلام ہی کے لائے ہوئے مزید دہشت گردوں نے کم از کم بتیس انسانوں کو خون میں نہلا دیا۔

اپریل 2016ء میں صالح عبدالسلام ایک بار پھر شینگن زون کی سرحد پار کرے گا، تب لیکن پولیس کی گاڑیوں کے ایک قافلے کے ساتھ۔ بیلجیم نے اپنے زیر حراست اس ملزم کو اب فرانس کے حوالے کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

DW.COM