1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورپ میں دہشت گردانہ حملوں کا خطرہ ہے، امریکا

امریکی حکومت نے یورپ کا سفر کرنے والے اپنے شہریوں کو متنبہ کیا ہے کہ فرانس میں چند روز بعد منعقدہ یورپیئن فٹ بال چیمپیئن شپ اور دیگر اہم عوامی تقریبات میں شرکت کرتے ہوئے ہوشیار رہیں کیوں کہ دہشت گردانہ حملوں کا خطرہ ہے۔

منگل کے روز امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ اس انتباہ میں دہشت گردی کے کسی خاص مقام یا منصوبے کا ذکر کیے بغیر کہا گیا ہے کہ پورے براعظم یورپ میں دہشت گردانہ حملوں کے خطرات موجود ہیں۔

اس بیان کے مطابق، ’’یورپ بھر میں اہم مقامات، سیاحتی مراکز، ریستوانوں، تجارتی علاقوں اور نقل و حمل کے ذرائع کے پر دہشت گردی ہو سکتی ہے۔‘‘

اس تنبیہی بیان میں مزید کہا گیا ہے، ’’موسم گرما میں یورپ میں سیاحوں کی بہت برٹی تعداد موجود ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ دہشت گرد اسی کا فائدہ اٹھا کر عوامی مقامات خصوصی زیادہ تعداد میں عوام کی موجودگی والی تقریبات کو نشانہ بنانے کے منصوبے بنا رہے ہیں۔‘‘

Frankreich Festnahmen Terrorverdächtige in Argenteuil

پیرس اور برسلز میں دہشت گردانہ حملوں کے بعد یورپ بھر میں سکیورٹی الرٹ ہے

اس بیان کے مطابق، ’ایسی قابل بھروسہ اطلاعات موجود ہیں، جن کے تحت دہشت گرد گروہ یورپ میں ممکنہ دہشت گردانہ حملے کر سکتے ہیں، ’’یورپی حکومتیں ان حملوں کو ناکام بنانے کی کوششیں کر رہی ہیں، تاہم دہشت گرد تنظیموں کے حملوں کا خطرہ سبھی یورپی ممالک کو ہے۔‘‘

محکمہء خارجہ کے ترجمان جان کِربی نے اس حوالے سے کہا کہ انہیں کسی خاص مقام یا کسی خاص منصوبہ بندی سے متعلق ٹھوس معلومات حاصل نہیں ہیں، تاہم یہ تنبیہی بیان مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی اطلاعات کے تجزیے کے بعد جاری کیا گیا ہے، ’’اس وقت ہمیں یہی معلوم ہے کہ دہشت گرد مغربی اہداف اور بالخصوص امریکیوں کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔‘‘

اس انتباہی بیان میں خصوصاﹰ یورپی فٹ بال چیمپیئن شپ کا ذکر کیا گیا ہے، جو دس جون سے دس جولائی تک فرانس میں منعقد ہو گی۔ اس کے علاوہ دو سے 24 جولائی تک جاری رہنے والی ٹور ڈے فرانس اور کیتھولک مسیحیوں کے ورلڈ یوتھ ڈے کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے۔ پولینڈ کے شہر کراکاؤ میں منعقدہ یہ مسیحی اجتماع 26 تا 31 جولائی منعقد ہو گا اور توقع کی جا رہی ہے کہ اس میں 26 لاکھ افراد شریک ہوں گے۔