1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

یورپ میں داخلے کا ایک راستہ یونان بھی

ایشیا اور افریقہ سے ہر سال ہزاروں افراد بہتر مستقبل کی تلاش میں یورپ کا رخ کرتے ہیں۔ یورپ میں داخلے کے لئے اٹلی، مالٹا اور ہسپانیہ سمیت یونان سب سے زیادہ استعمال کئے جاتے ہیں۔

default

پولیس افسر یونان میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے ایک فرد کی تلاشی کے دوران

کیا یہ یونان ہے؟

ہاتھ میں چھوٹا سا بیگ پکڑے سفر کی تھکان سے نڈھال 25 سالہ اوسیف احمدی کا ساحل پر اترتے ہی سوال تھا۔ اوسیف احمدی کے مطابق اس کا تعلق افغانستان سے ہے اور یونانی ساحلی گارڈز کے ہاتھوں پکڑکر اگاتھونیسی جزیرے پر لائے گئے سولہ افراد میں اس کا بھائی علی، بیوی لیلیٰ اور ایک سالہ بیٹی مریم بھی شامل ہیں۔

ترکی کے مغربی ساحل کے قریب واقع جاذب نظر اور قدرتی حسن سے مالامال یونانی جزیرے اگاتھونیسی کی کل آبادی تقریبا ایک سو افراد پر مشتمل ہے۔ مگر یورپی یونین کی جنوب مشرقی سرحد ہونے کی وجہ سے یہ جزیرہ افریقہ اور ایشیا سے غیر قانونی طور پر یورپ میں داخل ہونے والوں کے لئے انتہائی کشش کا باعث ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے ساحل کے قریب سمندر میں آپ کو تفریحی کشتیوں کی بجائے یونانی ساحلی گارڈز کی کشتیاں بڑی تعداد میں نظر آتی ہیں۔

اگاتھونیسی کے میونسپل کونسلر سٹیلیس کامِٹسِس Stelios Kamitsis کے مطابق محض گزشتہ برس کے دوران پانچ ہزار افراد کواس جزیرے پر غیر قانونی طور پر داخل ہونے کی کوشش میں گرفتار کرکے واپس بھجوایا گیا۔ یہ تعداد اس کی کل آبادی کا پچاس گنا بنتی ہے۔

افغانستان کی طرح پاکستان سے بھی ہرسال ہزاروں کی تعداد میں نوجوان آنکھوں میں ترقی کے خواب سجائے یورپ پہنچنے کے لئے انسانی سمگلروں کو بڑی بڑی رقوم دے اپنی جان جوکھوں میں ڈالتے ہیں اور کئی بار تو ایسے افراد راستے کی سختیوں یا بارڈر گارڈز کی فائرنگ کی زد میں آکر اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ چند ماہ قبل پاکستانی شہر کوئٹہ میں ایسے ہی پچاس کے قریب افغان شہریوں کی ایک کنٹینر میں دم گھٹنے کے باعث ہلاکت کا لرزہ خیز واقعہ اسی کی ایک آپ کو یاد ہی ہوگا۔

Illegale Einwanderung in Frankreich

ہر سال ہزاروں افراد یونان کے ذریعے یورپ میں داخلے کی کوشش کرتے ہیں

اس صورتحال کا ایک تاریک پہلو یہ بھی ہے کہ بڑی بڑی رقوم کی ادائیگی اور جان خطرے میں ڈالنے کے باوجود بھی اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہوتی کہ وہ اپنی منزل تک پہنچ پائیں گے۔ اگاتھونیسی پر گرفتار کرکے لائے جانے والے اوسیف احمدی کا کہنا ہے کہ اس کا چھوٹا سا خاندان ایک ماہ قبل افغان صوبے واردک سے روانہ ہوا تھا اور یورپ تک پہنچنے کے لئے انہوں نے انسانوں کوسمگل کرنے والے افراد کو دس ہزار یورو اد اکئے۔

یورپ میں غیرقانونی طریقے سے داخل ہونے کی کوششیں کرنے والے افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ اس معاملے پر یونان ، قبرص، مالٹا، اور اٹلی سمیت وہ ممالک جو یورپی یونین کی سرحد پر واقع ہیں شدید پریشانی کا شکار ہیں اور یورپی یونین سے اس معاملے پر مدد کے متقاضی ہیں۔ یورپی یونین کے 18 اور 19جون کو ہونے والے دو روزہ اجلاس میں یہ معاملہ بھی زیر بحث رہا۔

رپورٹ افسراعوان

ادارت عاطف توقیر