1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورپ میں دائیں بازو کی طرف جھکاؤ کی وجہ عالمگیریت سے خوف

عالمگیریت کے بڑھتے ہوئے رجحان سے یورپی شہری پریشان ہیں۔ بیرٹلز مان فاؤنڈیشن کے ایک تازہ جائزے کے مطابق فرانس اور آسٹریا میں عالمگیریت کے حوالے سے مایوس کن سوچ رکھنے والے افراد اکثریت میں ہیں۔

آخر ووٹرز کی ہمدردی کیوں اتنی تیزی سے دائیں بازو کی جماعتوں کے لیے بڑھ رہی ہے؟ آخر کیوں یورپ میں عوامیت پسندی میں اضافہ ہو رہا ہے؟ ان سوالات کا جواب تلاش کرنے کے لیے جرمن فاؤنڈیش بیرٹلز مان نے نو یورپی ممالک میں تقریباً پندرہ ہزار افراد سے بات کی۔ اس سروے کا نتیجہ یہ سامنے آیا ہے کہ دائیں بازو کی انتہا پسندی میں اضافے کے پیچھے دو قوتیں کار فرما ہیں، ایک روایتی اقدار کے مٹ جانے کا خدشہ اور دوسرا عالمگیریت  سے خوف۔ یورپی آبادی  کےتقریباً نصف یعنی پینتالیس فیصد کو عالمگیریت سے خوف ہے۔

اس جائزے کو مرتب کرنے والوں کے مطابق،’’عالمگیریت کے اس بڑھتے ہوئے رجحان میں لوگوں کو ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جانے کا ڈر ہے اور انہیں مقتدر سیاسی حلقوں کی جانب سے نظر انداز کیے جانے کا بھی خدشہ ہے۔‘‘ عالمگیریت کے حوالے سے مایوس کن سوچ رکھنے والے افراد مہاجرین سے بھی خطرہ محسوس کر رہے ہیں حالانکہ ان میں سے زیادہ تر کا پناہ گزینوں سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے۔ اسپین اور اٹلی کمزور اقتصادیات کے باوجود دو ایسے ممالک ہیں،جہاں عالمگیریت سے خوف نہیں پایا جاتا۔

جرمنی میں عالمگیریت کے حوالے سے پرامید افراد کی شرح پچپن فیصد ہے۔ جمہوری اقدار پر تحقیق کے ایک ادارے سے منسلک وولفگانگ میرکل کہتے ہیں،’’ہم یورپی یونین کی اُن معیشتوں میں سے ایک ہیں، جنہوں نے نمایاں طور پر ترقی کی ہے۔ ہماری روزگار کی منڈی کی حالت اتنی اچھی ہے، جتنی کہ پچھلے پچیس برسوں میں نہیں تھی اور یہ چیز ظاہر ہے، اُن جرمن شہریوں کو نظر آتی ہے، جو عموماً عالمگیریت کو مثبت انداز میں دیکھتے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ دائیں بازو کی عوامیت پسند جماعتیں سویڈن، جرمنی، ہالینڈ اور اٹلی میں قائم جمہوریتوں کو نقصان نہیں پہنچا سکیں گی۔ اس جائزے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ عالمگیریت سے خوفزدہ زیادہ تر افراد کا تعلق دائیں بازو اور عوامیت پسند جماعتوں سے ہے۔

بیرٹلز مان  فاؤنڈیشن کے جائزے کے مطابق عالمگیریت سے خوفزدہ افراد کا اپنے اپنے ملکوں کے سیاسی رہنماؤں پر سے اعتماد اٹھ چکا ہے اور یہ اسی وجہ سے عوامیت پسند جماعتوں کا ساتھ دے رہے ہیں۔ یورپی یونین کے کئی ممالک میں پرانی اور مضبوط جماعتوں کی مقبولیت کم ہو رہی ہے اور دائیں بازو کی عوامیت پسند جماعتیں تیزی سے اوپر آ رہی ہیں۔ ان میں فرانس کی نیشنل فرنٹ، آسٹریا کی فریڈم پارٹی، اٹلی کی فورزا اٹالیا اور برطانیہ کی یوکے انڈیپینڈنس پارٹی پیش پیش ہیں۔ فرانس میں نیشنل فرنٹ کی مارین لے پین آئندہ صدارتی انتخابات میں اپنے حریف فرانسوا فیلوں کو شکست دے سکتی ہیں۔ اسی طرح اگر نوربرٹ ہوفر آسٹریا کے اگلے صدر بن جاتے ہیں تو یہ بھی عوامیت پسندوں کی جیت ہو گی۔ ہالینڈ میں بھی 2017ء میں انتخابات ہونا ہیں اور وہاں اسلام مخالف سیاستدان گیئرٹ ولڈرز کی عوامی مقبولیت بڑھ کر تیس فیصد تک پہنچ گئی ہے۔