1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

یورپ میں بغیر ویزا سفر کی اجازت معطل کرنا آسان بنایا جائے

جرمنی اور فرانس نے یورپی یونین میں ایک ایسی تجویز پیش کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ہنگامی صورت میں یورپی یونین میں بغیر ویزا سفر کی سہولت معطل کرنے کا قانون آسان کر دیا جائے۔

یورپی کمیشن نے فرانس اور جرمنی کی اس تجویز پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے جس میں ان دونوں رکن ممالک نے کمیشن سے درخواست کی ہے کہ ہنگامی صورتحال کے دوران یورپی یونین میں ویزا فری سفر کی سہولت معطل کرنے کے لیے طریقہ کار آسان کر دیا جائے۔

آسٹریا نے پناہ کے سخت ترین قوانین متعارف کرادیے

’تارکین وطن کو اٹلی سے بھی ملک بدر کر دیا جائے‘

برلن اور پیرس حکام نے یورپی کمیشن کے سامنے باقاعدہ طور پر یہ تجویز پیش کر دی ہے، جس میں لکھا گیا ہے کہ یورپ میں سیاسی پناہ کی درخواستوں میں اضافے، غیر ملکیوں کے مقررہ مدت سے زیادہ قیام اور ملک بدری قبول کرنے سے انکار جیسے مسائل سے بچنے کے لیے سخت طریقہ کار اختیار کیا جائے۔ دونوں ممالک کی جانب سے پیش کردہ تجویز میں کہا گیا ہے کہ ایسی صورت میں ویزا فری سہولت معطل کرنے کا طریقہ کار آسان کر دیا جائے۔

ان تجاویز کا بظاہر مقصد ترکی، یوکرائن اور جارجیا جیسے ممالک کے باشندوں کے لیے یورپ میں بغیر ویزا سفری سہولت فراہم کرنے کی راہ ہموار کرنا ہے۔

یورپی کمیشن کے سامنے پیش کیے گئے مجوزہ منصوبے کے مطابق یورپی یونین کے رکن ممالک کسی بھی ایسے ملک کے عوام کے لیے بغیر ویزا سفر کی سہولت چھ ماہ کے لیے معطل کر سکیں گے۔ تاہم یورپی یونین کے اراکین کی اکثریت اگر ایسے اقدام کے خلاف رائے شماری کے ذریعے فیصلہ سنا دے تو ایسی صورت میں انفرادی ملک کا فیصلہ کالعدم ہو جائے گا۔

یورپ اور ترکی کے مابین طے پانے والے معاہدے کے مطابق ترک شہریوں کو یورپی یونین کی حدود میں ویزے کے بغیر سفر کرنے کی سہولت مہیا کر دی جائے گی۔ اس ضمن میں ترکی کو یونین کی جانب سے طے کردہ 72 شرائط پوری کرنا ہیں۔ یورپی کمیشن چار مئی کے روز اس بات کا جائزہ لے گا کہ ترکی نے ان میں سے تب تک کتنی شرائط پوری کی ہیں۔

جرمنی اور فرانس نے کمیشن سے درخواست کی ہے کہ بغیر ویزا سفر کی سہولت معطل کرنے کے قانون میں آسانی بھی اسی وقت کر دی جائے۔

تاہم یورپی یونین کی ایک خاتون ترجمان کے مطابق یورپی قوانین میں ہنگامی صورت حال کے دوران ویزا فری سہولت معطل کرنے کی شق پہلے سے ہی موجود ہے۔ اس ترجمان کا کہنا تھا، ’’یورپی کمیشن کی جانب سے معطلی کے موجودہ طریقہ کار کا از سرِ نو جائزہ لیے جانے کا فی الحال کوئی منصوبہ نہیں ہے۔‘‘

جرمنی اور فرانس کی اس تجویز کو یونین کے کئی دیگر رکن ممالک کی حمایت بھی حاصل ہے۔ ان ممالک کا کہنا ہے کہ موجودہ قانون کے مطابق بغیر ویزا سفری سہولت معطل کرنے کے لیے اب تک حکام کو طویل وقت درکار ہوتا ہے۔

جرمنی نے 2016ء میں اب تک کتنے پاکستانیوں کو پناہ دی؟

یورپی کمیشن نے سیاسی پناہ کے نئے قوانین تجویز کر دیے

DW.COM