یورپ میں ایک لاکھ بیس ہزار مہاجرین کی آباد کاری کی تجویز | حالات حاضرہ | DW | 03.09.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورپ میں ایک لاکھ بیس ہزار مہاجرین کی آباد کاری کی تجویز

یورپی کمیشن کے صدر ژاں کلود یُنکر نے تجویز کیا ہے کہ تارکین وطن کی آمد کی وجہ سے بہت زیادہ بوجھ کے شکار اٹلی، یونان اور ہنگری جیسے ملکوں سے مزید ایک لاکھ بیس ہزار مہاجرین کو مختلف یورپی ملکوں میں منتقل کر دیا جائے۔

default

ہنگری کے دارالحکومت بوڈاپسٹ کا ریلوے اسٹیشن ، وہاں پہنچنے والے غیر ملکی تارکین وطن کی عارضی پناہ گاہ

یورپی یونین کے برسلز میں واقع صدر دفاتر سے جمعرات تین ستمبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق یورپی کمیشن کے ایک اعلٰی ذریعے نے بتایا کہ یہ تجویز یورپی کمیشن کی اسی سال مئی میں پیش کردہ اس تجویز کے علاوہ ہے، جس کے تحت تارکین وطن کی بہت بڑی تعداد میں آمد کے باعث دباؤ کے شکار ملکوں سے چالیس ہزار مہاجرین کو یونین کے رکن مختلف ملکوں میں آباد کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

اے ایف پی کے مطابق یورپی کمیشن کے صدر اپنی یہ تجویز باقاعدہ طور پر نو ستمبر کے روز اپنے ’اسٹیٹ آف دا یونین‘ خطاب میں پیش کریں گے اور اس سے قبل یورپی کمیشن کی سطح پر اس کی تمام یورپی کمشنروں سے باقاعدہ تائید بھی حاصل کی جائے گی۔

یورپی ذرائع کے بقول چونکہ یونین کے بحیرہ روم کے کنارے واقع اٹلی اور یونان جیسے ملکوں اور مشرقی یورپ میں ہنگری جیسی ریاستوں کو تارکین وطن کی ہر روز ہزاروں کی تعداد میں آمد کے باعث قومی سطح پر شدید دباؤ کا سامنا ہے، اس لیے یُنکر یہ تجویز پیش کریں گے کہ ان ملکوں سے مجموعی طور پر ایک لاکھ بیس ہزار مہاجرین کو یونین میں شامل دوسرے ملکوں میں آباد کاری کے لیے تقسیم کر دیا جائے۔

Griechenland Schuldenkrise PK Juncker

یورپی کمیشن کے صدر ژاں کلود یُنکر

اے ایف پی نے مزید لکھا ہے کہ آج جمعرات کے روز اس بارے میں برسلز سے ملنے والی خبروں کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی اہم ہے کہ آج ہی یورپی یونین کے صدر ڈونالڈ ٹُسک نے بھی اس بلاک میں شامل ریاستوں سے یہ مطالبہ کیا کہ انہیں اپنے ہاں کم از کم بھی ایک لاکھ ایسے مہاجرین کو قبول کرنا چاہیے جو یورپ پہنچ چکے ہیں۔

ساتھ ہی یہ بات بھی اہم ہے کہ ٹُسک کے اس مطالبے ہی کے روز آج فرانس اور جرمنی کے رہنماؤں صدر فرانسوا اولانڈ اور چانسلر انگیلا میرکل نے بھی اس بات پر اتفاق کر لیا کہ یونین کی رکن ریاستوں کے لیے اب ایسا کوٹہ سسٹم ضروری ہو گیا ہے، جس کے تحت یونین کے علاقے میں داخل ہونے والے تارکین وطن کو رکن ریاستوں میں تقسیم کیا جا سکے اور طے ہو جانے کے بعد اس کوٹہ سسٹم پر عمل درآمد ہر رکن ملک کے لیے لازمی ہو۔

DW.COM