1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

یورپ میں انسانوں کی اسمگلنگ: جرمنی میں دو پاکستانی گرفتار

وفاقی جرمن پولیس نے غیر ملکیوں کو جرمنی اور دیگر یورپی ممالک میں اسمگل کرنے کے شبے میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے انسانوں کے دو مبینہ اسمگلروں کو گرفتار کر لیا ہے۔

نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق جرمن پولیس نے پاکستان سے تعلق رکھنے والے دو افراد کو انسانوں کی مبینہ اسمگلنگ کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔

’مہاجرین چلا چلا کر کہتے رہے کہ آکسیجن ختم ہو رہی ہے‘

یونانی جزیرے کی غاروں میں چھپے تارکین وطن اور اسمگلر گرفتار

ان پاکستانیوں کو تیس جون بروز جمعہ جرمن شہر آؤگسبرگ اور وُرسبرگ کے نواح میں مارے گئے مختلف چھاپوں کے دوران گرفتار کیا گیا۔ انسانوں کی اسمگلنگ کے الزام میں گرفتار کیے گئے ان پاکستانی شہریوں میں سے ایک کی عمر تیس برس جب کہ دوسرے کی عمر چوبیس برس بتائی گئی ہے۔

فرینکفرٹ میں وفاقی جرمن پولیس کے ترجمان نے ان گرفتاریوں کے حوالے سے بتایا کہ ان افراد نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر گزشتہ مہینوں کے دوران کئی افراد کو جعلی دستاویزات کی مدد سے جرمنی پہنچایا تھا۔ انسانوں کے یہ مبینہ اسمگلر لوگوں کو غیر قانونی طور پر یورپ پہنچانے کے لیے شینگن زون کے ویزوں میں رد و بدل کرتے تھے اور جعلی پاسپورٹوں کا سہارا لیتے تھے۔

پولیس کے مطابق حالیہ مہینوں کے دوران ایسی ترمیم شدہ سفری دستاویزات کی مدد سے انسانوں کی اسمگلنگ کرنے والے اس گروہ نے کئی غیر ملکیوں کو جرمنی اور دیگر یورپی ممالک میں پہنچایا تھا۔

جرمن سکیورٹی اداروں نے ان افراد سے متعلق تحقیقات کے بعد دو شہروں میں ان کی گرفتاری کے لیے جو چھاپے مارے، ان میں ساٹھ پولیس اہلکاروں نے حصہ لیا۔ علاوہ ازیں جرمن دفتر استغاثہ کی اجازت سے آؤگسبرگ شہر میں چار گھروں کی تلاشی بھی لی گئی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ پاکستانی شہری انسانوں کی اسمگلنگ کرنے والے ایک منظم گروہ کا حصہ ہیں۔ گرفتاری کے بعد ملزمان سے پوچھ گچھ شروع کر دی گئی ہے۔

پاکستانی مہاجرین کو وطن واپس جانا پڑے گا، ترک وزیر

پاکستانی اور افغان پناہ گزینوں کو آسٹریا بھیجنے والے گرفتار

ویڈیو دیکھیے 03:00

امیدوں کے سفر کی منزل، عمر بھر کے پچھتاوے

DW.COM

Audios and videos on the topic