1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورپ میانمار کے لئے زیادہ بہتر کردار ادا کر سکتا ہے، سوچی

نوبل امن انعام یافتہ میانمار کی اپوزیشن رہنما آنگ سان سوچی نے کہا ہے کہ ینگون حکومت سے متعلق یورپی یونین کے اندرونی اختلافات ان کی تحریک پر منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بات ڈوئچے ویلے سے بات چیت میں کہی۔

default

آنگ سان سوچی

آنگ سان سوچی کو طویل نظر بندی کے بعد گزشتہ ماہ ہی رہا کیا گیا ہے، جس کے بعد ڈوئچے ویلے کے ساتھ خصوصی بات چیت میں انہوں نے کہا کہ تمام یورپی ممالک میانمار میں خصوصی اقدامات کے لئے زور دیں تو اس سے بہت مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ممالک سیاسی قیدیوں کی رہائی، سیاسی عمل کے فروغ اور مذاکرات میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں اور اس حوالے سے جرمنی کا کردار بالخصوص بہت اہم ہے۔

میانمار میں مغرب کے مقابلے میں چین اور بھارت کے کردار پر ایک سوال کے جواب میں سوچی نے کہا کہ ان فریقین کا کردار بہت مختلف ہے۔ انہوں نے کہا، ’میرا نہیں خیال کہ یہاں اپنا اثر جمانے کے لئے ان کے درمیان مقابلہ چل رہا ہے۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ ہم اپنے مستقبل کا تعین خود نہیں کر سکتے۔ پھر بھی چین اور بھارت کو دیگر ممالک پر کچھ سبقت حاصل ہے، جس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ہمارے قریبی ہمسائے ہیں۔‘

انہوں نے کہا، ’اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ مغرب میانمار کے لئے اہم نہیں۔’

سوچی نے کہا ہے کہ بھارت اور چین کو میانمار کا ساتھ دینا چاہئے۔ انہوں نے کہا، ’ابتدا میں وہ ہمیں موقع دیں تاکہ ہم ان پر اپنا مؤقف واضح کر سکیں۔’

انہوں نے کہا کہ ان دونوں ممالک سے ان کا بہت کم رابطہ ہے، بالخصوص چین سے۔ سوچی نے کہا، ’ان کے بارے میں ہمارا رویہ جارحانہ نہیں، چاہے وہ میانمار کی جمہوریت کے لئے کام نہیں بھی کر رہے۔’

سوچی نے اپنی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی کے مستقبل کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا، ’ہم ایک سیاسی قوت کے طور پر ابھرنے جا رہے ہیں۔ ہمیں عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔’

Aung San Suu Kyi

سوچی کے حامی

انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکام ان کی پارٹی کی رجسٹریشن ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جسے روکنے کے لئے انہوں نے عدالت سے رجوع کیا ہے۔

سوچی نے کہا کہ نظربندی سے رہائی کے بعد ینگون حکومت سے رابطے کی کوشش نہیں کی، تاہم وہ انہیں بالواسطہ طور پر مذاکرات کا پیغام دے رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے ساتھ مثبت مذاکراتی عمل کے لئے وہ مناسب وقت کے انتظار میں ہیں۔

میانمار کی اپوزیشن رہنما نے کہا، ’میں نہیں سمجھتی کہ عالمی اقتصادی پابندیوں سے میانمار کے عوام متاثر ہوئے ہیں۔’

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس حوالے سے مزید جاننے کے لئے انہیں آئی ایم ایف اور اے ڈی پی کی تازہ رپورٹوں کا بھی انتظار ہے۔

رواں برس کے نوبل امن انعام یافتہ چینی شہری لیوژیاؤبو کے حوالے سے سوچی نے کہا کہ وہ ان کے بارے میں زیادہ نہیں جانتیں، تاہم ناروے کی نوبل کمیٹی نے انہیں منتخب کیا ہے تو اس کی ضرور ٹھوس وجوہات ہوں گی۔

آنگ سان سوچی نے کہا کہ گزشتہ ماہ نظربندی سے رہائی کے بعد انہوں نے ملک میں جو سب سے بڑی تبدیلی دیکھی، وہ ٹیلی مواصلات کے نظام کی ترقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں رہا کیا گیا تو ہر کوئی موبائل فون کے ذریعے ان کی تصویریں لے رہا تھا یا ویڈیو بنا رہا تھا۔

تاہم انہوں نے اس بات پر مایوسی ظاہر کی کہ ملک میں مہنگائی بہت بڑھ گئی ہے، جس سے عوام پریشان ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے رجحان میں مثبت تبدیلی کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ اب نوجوان پہلے سے کہیں بڑھ کر سیاسی عمل کا حصہ بن رہے ہیں۔

رپورٹ: تھامس بیرتھلائن/ندیم گِل

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM