1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

یورپ مزید مہاجرين کو پناہ نہيں دے سکتا، فرانسيسی وزير اعظم

فرانسيسی وزير اعظم مانوئل والس نے کہا ہے کہ پناہ گزينوں کے بحران کے حوالے سے يورپی ممالک اپنی حد تک پہنچ چکے ہيں اور اب مزيد مہاجرين کو پناہ فراہم کرنا ممکن نہيں۔

مانوئل والس نے کہا ہے کہ يورپ ميں اب مزيد تارکين وطن کو پناہ فراہم نہيں کی جا سکتی اور اٹھائيس رکنی يورپی بلاک کا مستقبل يورپ کی بيرونی سرحدوں کی کڑی نگرانی سے جڑا ہے۔ انہوں نے يہ بات ايک جرمن اخبار ’زُوڈ ڈوئچے سائی ٹنگ کو ديے گئے اپنے ايک انٹرويو ميں کہی، جو بدھ پچيس نومبر کو شائع ہوا۔

مانوئل والس نے اپنے انٹرويو ميں البتہ ميرکل پر براہ راست تنقيد سے گريز کيا۔ ہنگری ميں پھنسے ہوئے شامی پناہ گزينوں کو آگے بڑھنے کے ليے پناہ سے متعلق يورپی قوانين کی عارضی معطلی کے فيصلے پر بات کرتے ہوئے والس نے کہا کہ يہ جرمنی کی جانب سے ’قابل احترام‘ فيصلہ تھا۔ تاہم فرانسيسی وزير اعظم نے يہ بھی کہا کہ ميرکل کے فيصلے نے انہيں چونکا ديا تھا۔ انہوں نے کہا، ’’فرانس يہ کہنے والا ملک نہيں تھا کہ يہاں آ جائيں۔‘‘

فرانسيسی وزير اعظم کا یہ انٹرویو ایک ایسے وقت میں شائع ہوا ہے، جب جرمن چانسلر انگيلا ميرکل فرانسيسی دارالحکومت پيرس ميں صدر فرانسوا اولانڈ سے ملاقات کرنے والی ہيں۔ جنگ و جدل سے پناہ کے ليے يورپ کا رخ کرنے والے پناہ گزينوں کے ليے ’کھلے دل اور کھلے دروازوں‘ کی پاليسی کے سبب ابتداء میں ميرکل کو داخلی سطح پر سراہا گيا تھا تاہم مہاجرين کی بڑی تعداد ميں مسلسل آمد کے نتيجے ميں جيسے جيسے متعدد مسائل نمودار ہوتے جا رہے ہيں، ويسے ويسے ميرکل پر اس حوالے سے اب تنقيد ميں بھی دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ پيرس ميں ہونے والے حاليہ دہشت گردانہ حملوں کے تناظر ميں مہاجرين کے حوالے سے يورپ سطح پر جاری بحث اب زيادہ ’سياسی‘ ہو گئی ہے۔

مانوئل والس کے بيان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرين انٹونيو گُتیریس نے کہا ہے کہ پيرس حملوں کے تناظر ميں جنگ اور تشدد سے بھاگنے والے پناہ گزينوں کے ليے دروازے بند نہيں کيے جانے چاہييں۔ گُتیریس نے جاپانی دارالحکومت ٹوکيو ميں بدھ کے روز ايک پريس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’پناہ گزين خود دہشت گردی کا شکار بنے ہيں اور يہ تفريق کرنا لازمی ہے۔‘‘ کمشنر نے مزيد کہا کہ پيرس حملے مہاجرين کی وجہ سے نہيں ہوئے بلکہ حملہ آور بظاہر ’داخلی عوامل کی پيداوار لگتے ہيں۔‘

جرمن چانسلر انگيلا ميرکل فرانسيسی دارالحکومت پيرس ميں صدر فرانسوا اولانڈ سے ملاقات کرنے والی ہيں

جرمن چانسلر انگيلا ميرکل فرانسيسی دارالحکومت پيرس ميں صدر فرانسوا اولانڈ سے ملاقات کرنے والی ہيں

دريں اثناء فرانسيسی وزير اقتصاديات ايمانوئل ماکرون اور ان کے جرمن ہم منصب زيگمار گابريل نے دس بلين يورو کے ايک فنڈ کے قيام کا مشورہ ديا ہے۔ اس مجوزہ فنڈ کی مدد سے بہتر سکيورٹی انتظامات، سرحدوں کی نگرانی ميں اضافہ اور مہاجرين کی مقابلتاً بہتر ديکھ بھال ممکن ہو سکے گی۔ فرانسيسی وزير کے ايک قريبی ذرائع کے مطابق اگر فريقين چاہيں تو اس فنڈ کا قيام آئندہ چند ہی ہفتوں ميں ممکن ہے۔

يورپ کو ان دنوں اپنی تاريخ ميں دوسری عالمی جنگ کے بعد مہاجرين کے بد ترين بحران کا سامنا ہے۔ سال رواں کے دوران اب تک مشرق وسطٰی، شمالی افريقہ اور ايشيا کے شورش زدہ ملکوں سے قريب ايک ملين پناہ گزين يورپ پہنچ چکے ہيں۔ تارکين وطن کی بھاری اکثريت مغربی يورپ کے ملک جرمنی ميں سياسی پناہ کی خواہاں ہے۔

ملتے جلتے مندرجات