1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

یورپ مزید مضبوط سیاسی اتحاد کی جانب گامزن

یورپی یونین میں اصلاحات کے معاہدے، لزبن ٹریٹی پر بالآخر یونین کے ستائیسویں اور آخری رکن ملک چیک جمہوریہ نے بھی دستخط کر دئے ہیں۔ یونین کوسیاسی طور پر مزید مضبوط و متحد کرنےکے اس معاہدے پر عملدرآمد میں اب کوئی رکاوٹ نہیں

default

یورپی رہنماؤں نےتمام رکن ممالک کی جانب سے اس معاہدے کی توثیق کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ لزبن ٹریٹی کو عملی جامہ پہنانے کے لئے اب یورپی اتحاد کی اس تنظیم کے نئے اور اہم عہدوں پر تقرریوں کے لئے مختلف ناموں پر غور کیا جا رہا ہے۔

چیک جمہوریہ کے صدر واسلاف کلاؤس نے یورپی یونین کے لزبن معاہدے کی دستاویز پر منگل کی شام دستخط کئے۔ اس سے قبل صبح ہی ملکی آئینی عدالت نے لزبن ٹریٹی کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔ چیک صدر معاہدےمیں تبدیلی کے حوالے سے اپنا موقف منوانے میں کامیاب رہے، جس کے تحت اب جرمن نسل کے وہ افراد چیک جمہوریہ میں جائداد کی ملکیت کا دعویٰ نہیں کر سکتے، جنہیں دوسری عالمی جنگ کے بعد وہاں سے بے دخل کیا گیا تھا۔

یورپی رہنماؤں نے اس معاہدے کی تمام رکن ممالک کی جانب سے توثیق پر اطمینان ظاہر کیا ہے۔ برطانوی وزیراعظم گورڈن براون کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ٫٫مجھے امید ہے کہ یورپی ممالک اب برسوں سے جاری اصلاحاتی معاملات سے متعلق بحث سے نکل کر معیشت، ماحولیات اور سلامتی کے معاملات کے حل کی جانب بڑھیں گے۔‘‘

Großbritanniens scheidender Premierminister Tony Blair

ٹونی بلیئر کے بطور صدر یورپی یونین بننے کے امکانات انتہائی کم ہیں۔

جرمنی کے وزیر خارجہ گیڈو ویسٹر ویلے نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ معاہدہ یورپ میں موجود انفرادی قومی ریاستوں کے لئے ہی نہیں بلکہ تمام یورپ کے لئے مجموعی طور پر سود مند ثابت ہو گا۔‘‘

چیک جمہوریہ کی طرف سے توثیق کے بعد یونین میں اصلاحات کے لئے جاری گزشتہ آٹھ سالہ جستجو ایک حد تک مکمل ہوگئی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اگر یورپی ممالک کے سیاسی اور معاشی اتحادکی یہ تنظیم عالمی سطح پر اپنے اثر ورسوخ میں اضافہ چاہتی ہے تو اسے باہمی اختلافات کو ختم کرنا ہوگا۔

لزبن ٹریٹی یورپی یونین کے پہلے سے موجود دستور کی جگہ لےگا، جسے سال دو ہزار پانچ میں ہالینڈ اور فرانس میں رائے عامہ نے مسترد کر دیا تھا۔ پرانے دستور کے مطابق یونین کی سربراہی ایک رکن ملک کو چھ ماہ تک سونپی جاتی تھی۔ لزبن ٹریٹی کے تحت یورپی صدر کا ایک نیا عہدہ تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ عہدہ ڈھائی سال کے لئے ہوگا، جس میں توسیع بھی کی جا سکے گی۔ یورپی یونین کا صدر یونین کے تمام ستائیس رکن ممالک کے سربراہان پر مشتمل سربراہ کانفرنس کی قیادت کرے گا۔ اس کے علاہ پہلے سے موجود یونین کے خارجہ امور کے سربراہ کو مزید اختیارات دئے جائیں گے۔

Vaclav Klaus bei einer PK nach Unterzeichnung Vertrag von Lissabon

چیک جمہوریہ کے صدر واسلاف کلاوز

یونین کے صدر کے عہدے کے لئے متوقع امیدواروں میں سرفہرست نام سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کا ہے۔ تاہم مبصرین کے مطابق زیادہ امکانات ہیں کہ بیلجیئم کے وزیراعظم ہیرمن فن روم پوئے اس عہدے کے لئے منتخب کر لئے جائیں۔ یونین کے خارجہ امور کے سربراہ کے امیدواروں میں برطانوی وزیرخارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ، یورپی یونین کے توسیعی کمیشن کے سربراہ اولی ریہن اور آسٹریا کی سابق وزیر خارجہ اُرسلا پلاسنک سرفہرست ہیں۔

لزبن ٹریٹی پر عملدرآمد کا سلسلہ یکم دسمبر سے شروع ہوگا۔ واضح رہے کہ یورپی یونین کا سربراہی اجلاس دس اور گیارہ دسمبر کو طے ہے۔ رواں ششماہی میں یونین کی صدارت کرنے والے ملک سویڈن نے اعلان کیا ہے کہ دسمبر کے اجلاس سے قبل یورپی سربراہان مملکت کا اجلاس بلایا جائے گا، جس میں صدر کے عہدے کے معاملے پر حتمی بات ہوگی۔

رپورٹ شادی خان سیف

ادارت امجد علی