1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورپ عالمی سطح پر تیزی سے اپنا اثرورسوخ کھو رہا ہے، ایشٹن

یورپی یونین کی وزیر خارجہ کیتھرین ایشٹن نے اس بارے میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یورپی یونین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دنیا بھر میں اپنے مفادات اور اقدار کی نمائندگی، بلند نظری اور نہایت مہارت کے ساتھ کرے۔

default

ایشٹن کے مطابق بصورت دیگر تیزی سے ترقی کی طرف گامزن دیگر ریاستیں یورپ کو دبا کر رکھ دیں گی۔ ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بدھ کے روز کیتھرین ایشٹن نے یورپی پارلیمان میں آئندہ پانچ سالوں کا اپنا پروگرام پیش کیا: ان کے بقول ’’اقتصادی استحکام ہی دراصل سیاسی اثر ورسوخ اور خود اعتمادی کی راہ ہموار کرتا ہے اور اسے ہر جگہ محسوس کیا جا سکتا ہے، ماحولیاتی پالیسی ہو ایران کے متنازعہ ایٹمی پروگرام کا معاملہ یا افریقہ اور وسطی ایشیا میں توانائی کی تجارت۔ اپنے مفادات کا تحفظ ہم متحد ہو کر ہی کر پائیں گے، وگرنہ ہمارے فیصلے دوسرے کیا کریں گے۔‘‘

Besuch in China Manmohan Singh Wen Jiabao

تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن چین اور بھارت کے سربراہان

ایشٹن یورپی یونین کی خارجہ امور کی نگران کی حیثیت سے یورپ کے مفادات کے تحفظ کے لئے امریکہ، نیٹو اور اقوام متحدہ کے ساتھ قریبی اشتراک عمل کو نہایت ضروری سمجھتی ہیں۔ تاہم ان کا ماننا ہے کہ یورپ کے پاس اپنی ایک وسیع خارجہ پالیسی موجود ہے جسے دنیا بھر میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ایشٹن نے گزشتہ دہائی کے دوران دنیا کی آبادی اور اقتصادیات میں یورپ کے حصے کے تیزی سے سُکڑنے کے عمل کو تشویش ناک قرار دیا ہے۔ اُن کے بقول یورپ کے برعکس چین، بھارت اور دیگر قومیں سالانہ دس فیصد تک ترقی کر رہی ہیں۔

برطانوی سیاست دان اور لیبر پارٹی کی لیڈر کیتھرین ایشٹن نے گزشتہ برس یکم دسمبر کو یورپی یونین کے خارجہ اور سلامتی امور کے نگراں کا نوساختہ اعلیٰ سطحی عہدہ سنبھالا تھا، تب سے انہیں مخالفتوں اور تنقید کا سامنا ہے۔ اُس سے قبل ایشٹن یورپی کمیشن کی تجارتی کمشنر تھیں۔ متعدد یورپی سیاستدانوں کا کہنا ہے کہ ایشٹن یورپی خارجہ سیاست سے نا بلد ہیں اور اس شعبے میں ان کے پاس کوئی تجربہ بھی نہیں ہے۔ یورپی خارجہ دفتر کی زبان بھی ایک متنازعہ مسئلہ ہے ۔ زیادہ تر سیاست دانوں کا مطالبہ ہے کہ جرمن سمیت یونین کی تینوں سرکاری زبانوں کو خارجہ امور میں استعمال کیا جائے۔ جرمن وزیر خارجہ گیڈو ویسٹر ویلے نے بھی یورپی یونین کے اس نئے اعلیٰ سطحی خارجہ امور کے دفتر میں جرمن زبان کے استعمال پر غیر معمولی زور دیا ہے۔

Deutschland EU Catherine Ashton bei Angela Merkel in Berlin

ایشٹن برلن کے چانسلر دفتر میں میرکل کے ساتھ

اس کے علاوہ یورپی یونین کے ممبر ممالک، یورپی کمیشن اور یورپی پارلیمان میں کئی ماہ سے چوٹی کے اس نئے دفتر کو کسی ایک ملک کے حوالے کرنے کے معاملے پر گرما گرم بحث کر رہےہیں ۔ یورپی پارلیمان کے ممبر اور کرسچن ڈیمو کریٹ لیڈرایلمر بروک کے بقول: ''اس امر کو ہر گز نظر انداز نہیں کیا جانا چاہئے کہ یورپی اتحاد اپنی تاریخ میں اُسی وقت کامیاب رہا ہے جب اس نے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کیا‘‘۔

کیتھرین ایشٹن کے لئے سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ وہ دو متضاد مفادات کو ایک ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ایک طرف وہ یورپی کمیشن دوسری جانب یورپی یونین میں شامل تمام رکن ممالک کی نمائندگی کر رہی ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا وہ یہ دونوں ساتھ لے کر چل پائیں گی؟

رپورٹ کشور مصطفیٰ

ادارت شادی خان سیف

DW.COM