1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورپ دہشت گردوں کے سیاسی بازوؤں کا گڑھ ہے، ایردوآن

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے آج منگل 10 مئی کو الزام عائد کیا ہے کہ یورپ دہشت گرد گروہوں کے سیاسی بازوؤں کا گڑھ بن چکا ہے۔ انہوں نے ترکی پر کی جانے والی یورپی تنقید کو بھی مسترد کر دیا۔

انقرہ میں منگل کے روز میں اپنے ایک خطاب میں ایردوآن نے کہا کہ یورپ دنیا بھر کے دہشت گرد گروہوں کے سیاسی بازوؤں کا مسکن بن چکا ہے۔ ترکی میں انسداد دہشت گردی قوانین پر یورپی تنقید پر سخت برہم ہوتے ہوئے انہوں نے اسے ’سیاہ مذاق‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین ترکی کو مشورے دینے کی بجائے خود اپنے ہاں انسدادِ دہشت گردی قوانین تبدیل کرے۔

ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے اپنے خطاب میں ایردوآن نے واضح الفاظ میں کہا کہ یورپی یونین ہرحال میں شینگن ممالک کے لیے ترک باشندوں پر پیشگی ویزے کے حصول کی شرط رواں برس اکتوبر تک ختم کر دے: ’’ہم سے وعدہ کیا گیا تھا کہ رواں برس اکتوبر تک ترک باشندوں پر شینگن علاقے میں سفر کے لیے ویزے کا معاملہ حل ہو جائے گا۔ مجھے امید ہے کہ وہ اپنا وعدہ ایفا کریں گے اور اکتوبر تک یہ معاملہ حل کر لیا جائے گا۔‘‘

Türkei Ahmet Davutoglu und Tayyip Erdogan

داؤد آؤلو نے اپنا عہدہ چھوڑنے کا اعلان کیا تھا

واضح رہے کہ اپنے عہدہ چھوڑنے والے وزیراعظم احمد داؤد آؤلو نے کہا تھا کہ رواں برس جون تک یہ معاملہ نمٹ جائے گا۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے یورپی یونین کی جانب سے انقرہ حکومت سے کہا گیا تھا کہ وہ ترکی میں انسدادِ دہشت گردی کے قوانین کو یورپی یونین کے معیارات کے مطابق بنائے۔ یورپی یونین کے مطابق ترکی کو ابھی اس سلسلے میں متعدد قانونی تبدیلیاں کرنا ہیں۔

یہ بات اہم ہے کہ یورپی یونین اور ترکی کے درمیان رواں برس مارچ میں طے پانے والی ایک ڈیل کے تحت ترکی سے کہا گیا تھا کہ وہ بحیرہء ایجیئن عبور کر کے یونان پہنچنے والے مہاجرین کے بہاؤ کو روکے، جب کے اس کے بدلے اسے کئی بلین یورو امداد کے علاوہ اس کے شہریوں کے لیے شینگن ممالک میں ویزے کے بغیر سفر کی اجازت دی جائے گی۔

تاہم قریب 79 ملین آبادی کے ملک ترکی کے شہریوں کی ویزا فری انٹری سے متعلق متعدد یورپی ممالک کی جانب سے تحفظات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔