1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’یورپ جانے کی کوشش کرنے سے قبل دو مرتبہ سوچیے‘

افغانستان کے لیےجرمن سفیر نے یورپ جانے کی تمنا رکھنے والے افغانیوں کو تلقین کی ہے کہ وہ ایسا کرنے سے پہلے دو مرتبہ سوچیں۔ جرمن حکومت نے ایسا سفر اختیار کرنے والے افغانیوں کے لیے ايک نئی معلوماتی مہم متعارف کرائی ہے۔

default

مقدونیہ میں افغان مہاجرین کا ایک گروپ

افغانستان میں جرمن سفارت خانے نے ایک ایسی آگہی مہم شروع کی ہے، جس کا مقصد ممکنہ طور پر یورپ کا غیر قانونی اور مشکل سفر اختیار کرنے والے افغان شہريوں کو درست معلومات اور شعور فراہم کرنا ہے۔ اِس کے علاوہ اِس مہم کے ذریعے اُن تمام افواہوں کی نفی بھی مراد ہے، جن کے مطابق جرمنی میں پناہ گزینی کے حوالے سے حالات سازگار ہیں۔ اِس مناسبت سے پندرہ نومبر کو دری اور پشتو زبانوں میں پوسٹر جاری کیے گئے۔ ان پر صاف انداز میں درج ہے ’کیا آپ افغانستان چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ ایسا کرنے سے قبل پھر سوچیں‘ ۔ ان پوسٹروں پر افغانستان میں جرمن سفارتخانے کے فیس بُک کا رابطہ بھی موجود ہے۔

بر اعظم یورپ کی جانب رخ کرنے والے مہاجرین اور خاص طور پر جرمنی پہنچنے والوں کے قافلے بدستور یورپی ساحلوں یا قفقاذ کے راستے آگے بڑھ رہے ہیں۔ اِس صورت حال پر یورپی اقوام بشمول جرمنی میں تناؤ محسوس کیا جانے لگا ہے۔ پچھلے جمعے کے روز پيرس ميں ہونے والے حملوں نے اِس صورت حال کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے۔ یورپی یونین اِس غیر قانونی مہاجرت کے سلسلے کو روکنے کے حوالے سے قواعد و ضوابط کے ساتھ ساتھ ایسے طریقے بھی ڈھونڈنے میں مصروف ہے، جن سے مہاجرت اختیار کرنے والوں کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔

Afghanistan Deutschland Bau neuer Sporthallen in Kabul

افغانستان میں متعین جرمن سفیر مارکوس پوٹسل

افغانستان میں متعین جرمن سفیر مارکوس پوٹسل کا خیال ہے کہ اِس معلوماتی مہم سے یورپ جانے والے افغانوں کو ڈرانا دھمکانا مقصود نہیں بلکہ اُن کو غیر قانونی انداز میں ملک چھوڑنے کے منفی اثرات، راستے کی مشکلات اور غیر قانونی مہاجرت اختیار کرنے کے ممکنہ نقصانات کے بارے ميں مکمل اگہی دینا ہے۔ سفیر کا کہنا ہے کہ اِس مہم کا مقصد اُن افغانیوں کو مفید معلومات دینا ہے جو یورپ اور خاص طور پر جرمنی پہنچنے کی کوشش میں ہیں۔ جرمن سفارت خانے نے یہ پوسٹر کابل، ہرات اور مزار شریف کے شہروں میں چسپاں کیے ہیں۔ پوٹسل نے مزید کہا کہ اِس مہم سے افغانیوں کو یہ احساس دلانا ہے کہ وہ گھر بار اور خاندان چھوڑنے کا فیصلہ کرتے ہوئے دو مرتبہ سوچیں ضرور۔

جرمن سفیر نے یہ بھی واضح کیا کہ برلن اِس مؤقف پر قائم ہے کہ افغانستان کی تعمیر نو میں شریک ہو کر اِس کو استحکام دیا جائے۔ پوٹسل کے مطابق عالمی برادری کی کوششوں کے دوران یہ ازحد ضروری ہے کہ افغانی اپنے ملک کی طرف پشت کر کے کھڑے نہ ہوں بلکہ وہ اِس کی تعمیر و ترقی کا حصہ بنیں۔ جرمن سفیر کے مطابق دہشت گردانہ، قتل اور مختلف حملوں کی تصاویر افغانستان کا ایک رخ ظاہر کرتی ہیں جبکہ وہاں ایک بڑی آبادی نارمل زندگی بسر کرتے ہوئے روز مرہ کے مسائل کا سامنا کر رہی ہے اور اپنے خاندان کی پرورش کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔