1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’یورپ‘ بوڑھا ہوتا ہوا براعظم، تجہیز و تدفین کے کاروبار میں اضافہ

یورپ میں عمر رسیدہ افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے اور یہاں تدفین کے انتظامات کرنے والے دفاتر کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہےکہ آخری رسومات کے تربیتی اسکول میں داخلے کے لیے درخواستوں کی تعداد بھی بڑھ گئی ہے۔

default

یورپ میں تدفین کے انتظامات کرنے کے لیے مختلف ادارے قائم ہیں۔ جب کسی کا انتقال ہو جاتا ہے تو انہی اداروں کو آخری رسومات کی ذمہ داری سونپی جاتی ہے۔ یہ کفن باکس، موم بتیوں، پھولوں کے ساتھ ساتھ قبرستان کے لیے ایسے افراد کا بھی انتظام کر تے ہیں، جو اس دوران کالا سوٹ پہن کر افسردہ چہرے کے ساتھ وہاں موجود ہوں۔ یقیناً جب یہ سب کچھ کرنا ہو، تو کسی پیشہ ور شخص یا ادارے سے ہی رجوع کیا جاتا ہے۔

Deutschland Berlin Jüdischer Friedhof Wiedereröffnung

یورپ میں تجہیز و تدفین کے انتظامات سکھانے کا واحد اسکول جرمنی میں قائم ہے

یورپ میں تجہیز و تدفین کے انتظامات سکھانے کا واحد اسکول جرمنی میں قائم ہے۔ تیزی سے بوڑھے ہوتے ہوئے اس براعظم میں اس پیشے کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے، جس وجہ سے اس ’ Funeral School‘ میں تربیت حاصل کرنے کے خواہش مند نوجوانوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

جرمن صوبے باویریا میں قائم اس اسکول میں یہ تربیت تین سالوں پر محیط ہے۔ اس دوران طلبہ کو قبرکھودنا، بند کرنا، مردے کو آخری رسومات کے لیے تیار کرنے کے علاوہ یہ بھی سکھایا جاتا ہے کہ سوگوار خاندان سے کس طرح سے بات کرنی ہے۔ ساتھ ہی اس دوران طلبہ کو یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ اس موقع پر پڑھا جانے والا پیغام کس طرح تحریر کیا جاتا ہے۔

اسکول کی انتظامی امور کی سربراہ روزینا ایکرٹ نے بتایا کہ اکثر غیر ملکی ان سے رابطہ کرتے ہیں۔’’ ہمارے پاس تربیت حاصل کرنے لے لیے چین اور روس کے گروپس بھی موجود ہیں، جو ہمارا طریقہ کار سیکھنا چاہتے ہیں‘‘

فیونرل اسکول میں زیر تربیت ایک 25 سالہ لڑکی ماگیرا کے بقول ’’ میں ایک اسسٹنٹ نرس تھی۔ اس دوران اگر کوئی انتقال کر جاتا تھا تو میں اس کی آخری رسومات دیکھنا چاہتی تھی۔ مجھے اس چیز میں بھی دلچسپی تھی کہ تدفین کا انتظام کرنے والے دفاتر کس طرح سب کچھ کرتے ہیں‘‘۔

جرمنی میں تجہیز و تدفین پر 2 سے 5 ہزار یورو تک کے اخراجات آتے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جرمنی میں 2009ء میں ہر ایک ہزار افراد میں 8.1 ولادتیں جبکہ 10.4 اموات ریکارڈ کی گئیں۔ براعظم یورپ کے دیگر ممالک میں بھی صورت حال کچھ مختلف نہیں ہے۔

Zunehmende Alterung bedroht Sozialsysteme

جرمنی میں بوڑھے افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے، جو ملک کے سماجی نظام کے لیے ایک خطرہ ہے

اس حوالے سے فیونرل اسکول کے استاد لاؤٹن باخ کہتے ہیں کہ عمر رسیدہ افراد کی تعداد میں اضافے کی وجہ سے اب موت کے موضوع پر زیادہ سے زیادہ بات ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ’’ سب سے زیادہ مشکل کام مرنے والے کے گھر والوں کو مطمئن کرنا ہوتا ہے۔ شاید یہی اس پیشے کا دلچسپ پہلو بھی ہے‘‘

اس اسکول میں تقریباً 550 طلبہ ہے۔ اسکول کی ایک لائبریری بھی ہے، جس میں انتظامات کے حوالے سے دنیا بھر کی کتابیں موجود ہیں۔ ساتھ ہی نفسیات، تدفین کی خصوصی ڈکشنری اور مارکیٹنگ کے کتابیں بھی اس لائبریری کا حصہ ہیں۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس