1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورپ اپنے ہاں دو لاکھ مہاجرین آباد کرے، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے ہاں دو لاکھ مہاجرین کو ’بڑے پیمانے پر آبادکاری کے پروگرام‘ کے حصے کے طور پر تسلیم کرے اور یونین کی رکن تمام ریاستوں کو انہیں اپنے ہاں قبول کرنے کا پابند بنایا جائے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین نے مزید کہا ہے کہ جن مہاجرین کے کیس اصلی ہیں، انہیں ’نقل مکانی پروگرام‘ کے تحت تحفظ فراہم کیا جائے۔ اس عالمی ادارے کے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق کوئی بھی یورپی ملک اس بحران سے اکیلا نہیں نمٹ سکتا اور کسی بھی دوسری ریاست کو اس حوالے سے اپنی ذمہ داریوں سے فرار کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔

بتایا گیا ہے کہ یورپی کمیشن آئندہ ہفتے ایک نیا منصوبہ پیش کرے گا، جس میں ایک لاکھ بیس ہزار مہاجرین کو یونین کے رکن ملکوں میں آبادکاری کے لیے تقسیم کرنے کی تجویز دی جائے گی۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کی طرف سے یہ مطالبہ ایک ایسے وقت پر کیا گیا ہے، جب جمعہ چار ستمبر کی شام یورپی یونین کے رکن ملکوں کے وزرائے خارجہ تارکین وطن کی وجہ سے پیدا ہونے والے بحران سے نمٹنے کے لیے ایک اہم اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔

جنیوا میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے عالمی ادارے کے کمشنر برائے مہاجرین انٹونیو گوٹیریش نے سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہو جانے والے شام کے اس تین سالہ بچے کی تصویر کا حوالہ بھی دیا، جو گزشتہ دو روز سے دنیا بھر کے میڈیا کی توجہ حاصل کر چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ترکی کے ایک ساحل پر اس مردہ بچے کی تصویر نے ’دنیا بھر کے انسانوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے‘۔ گوٹیریش کا کہنا تھا کہ ایسی صورتحال میں یورپ کو جزوی یا سست ردعمل ظاہر نہیں کرنا چاہیے۔

اقوام متحدہ کی طرف سے کیا گیا یہ مطالبہ اس جرمن فرانسیسی تجویز سے ملتا جلتا ہے، جس کے تحت تمام یورپی ملکوں سے تارکین وطن کا بوجھ مل کر اٹھانے کے لیے کہا گیا ہے۔ یورپ میں پناہ کے خواہش مند تارکین وطن کی سب سے زیادہ تعداد اس وقت یونان، اٹلی، جنوب مشرقی اور وسطی یورپ کے ٹرانزٹ ممالک میں ہے۔