1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورپ اور نیٹو کے ساتھ ثابت قدمی سے کھڑے رہیں گے، مائیک پینس

امریکی نائب صدر نے یورپ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ روس کے ساتھ تعاون کے نئے طریقوں کے باوجود وہ نیٹو کے ساتھ ثابت قدمی سے کھڑے رہے گے تاہم انہوں نے اپنے اتحادیوں سے مزید فوجی اخراجات کا مطالبہ بھی کر دیا ہے۔

زیادہ تر یورپی رہنماؤں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اب تک کی پالیسیوں پر کسی خاص خوشی کا اظہار نہیں کیا ہے۔ تاہم آج مریکی نائب صدر مائیک پینس نے جرمنی میں ہونے والی میونخ سیکیورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ کی پہلی اہم خارجہ پالیسی بیان کی ہے۔

یورپی رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب وہ مغربی فوجی اتحاد نیٹو کی ’اٹل‘ حمایت کا اعلان کر رہے ہیں تو یہ وعدہ ان کے صدر ٹرمپ کی طرف سے بھی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے یورپی یونین کے رہنماؤں سے اختلافی بیانات، ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے خلاف ممکنہ پالیسی اور یورپی یونین کے مستقبل کے حوالے سے بیانات نے یورپی رہنماؤں کو اپنے ستر سالہ پرانے حلیف امریکا کے بارے میں تذبذب کا شکار کر دیا ہے۔

نائب امریکی صدر کا یورپی رہنماؤں کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے مزید کہنا تھا، ’’یہ صدر ٹرمپ کا وعدہ ہے۔ ہم آج بھی یورپ کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہر دن کھڑے رہیں گے۔ کیوں کے ہم آزادی، جمہوریت، انصاف اور قانون کی حکمرانی جیسے مثالی نمونوں کے ذریعے ایک دوسرے سے بندھے ہوئے ہیں۔‘‘

امریکی نائب صدر کا مزید کہنا تھا، ’’ہمارا ماضی بھی مشترک تھا اور ہمارا مستقبل بھی مشترک ہوگا۔‘‘

اس دوران امریکی نائب صدر کا اتحادیوں کو خبردار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ نیٹو اراکین کو سکیورٹی کے اخراجات کا ایک منصفانہ حصہ اپنے ذمے لینا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ شراکت داروں کو ایک ’’واضح اور قابل اعتماد طریقے‘‘ کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کیے گئے وعدوں کے مطابق ان کو اپنی خام ملکی پیداوار کا دو فیصد حصہ خرچ کرنا ہوگا اور یہ کہ امریکی گزشتہ کئی برسوں کے تعاون کے لیے یورپ کے شکرگزار ہیں۔

اس کے ساتھ ہی مائیک پینس نے روس کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسےمشرقی یوکرائن میں امن کے حوالے سے مِنسک معاہدے کی پاسداری کرنا ہوگی۔