1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

یورپ اور اسلام: کس کی شناخت کا بحران

برسلز کی یورپی پارلیمان میں "یورپ اور اسلام: کس کی شناخت کا بحران" کے زیر عنوان جمعرات کو ایک مباحثے کا اہتمام کیا گیا، جس میں کئی سرکردہ شخصیات نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

default

مباحثے میں ان متعدد معاملات پر تبالہ خیال ہوا جو یورپی ممالک میں رہنے والے مسلمان اور غیر مسلم شہریوں کے باہمی ثقافتی فرق سے متعلق تھے۔ نیویارک پر گیارہ ستمبر کے دہشت گردانہ حملوں کے بعد عالمی منظر نامے میں ہونے والی تبدیلیوں نے اس موضوع کی اہمیت کو بڑھاوادیاہے جس کے بعد سے دونوں مذاہب کے شہریوں کے درمیان مفاہمت پیدا کرنے کی کوششوں میں تیزی آئی ہے۔

یورپی ممالک میں رہنے والے مسلمانوں کی تعداد ایک اندازے کے مطابق بیس ملین ہے جو کہ یورپ کی پانچ سو ملین کی مجموعی آبادی کا تقریباً دو اعشاریہ پانچ فیصد بنتا ہے۔ مجموعی طور پر یورپی معاشرے کو معتدل اور انصاف پسند تصورکیا جاتا ہے جہاں انسانی حقوق کی اہمیت دنیا کے دیگر خطوں کے مقابلے میں بہت بہتر ہے البتہ یہاں بھی بعض انتہائی دائیں بازو کے نظریات کے حامل لوگ پائے جاتے ہیں جو یورپ میں مسلمانوں کی موجدگی پر سوالات اٹھاتے ہیں۔

برسلز منعقدہ اس کانفرنس میں انہی امور پر بات کی گئی جس کی تفصیلات آپ اسی صفحے پر نیچے موجود خالد حمید فاروقی کی آڈیو رپورٹ میں سن سکتے ہیں۔

رپورٹ : خالد حمید فاروقی

ادارت : شادی خان سیف

DW.COM

Audios and videos on the topic