1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’یورپ امریکی، کینیڈین شہریوں کے لیے ویزا لازمی کر سکتا ہے‘

یورپی کمیشن اس بات پر غور کر رہا ہے کہ آیا یورپ کا سفر کرنے والے امریکا اور کینیڈا کے شہریوں کے لیے آئندہ اس بلاک کا ویزا لازمی کر دیا جانا چاہیے۔ اس ممکنہ فیصلے سے واشنگٹن اور برسلز کے مابین کھچاؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔

برسلز سے، جہاں یورپی یونین کے صدر دفاتر قائم ہیں، جمعرات سات اپریل کو ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ یورپی یونین کا انتظامی بازو یورپی کمیشن اس موضوع پر اپنے آئندہ منگل بارہ اپریل کے روز ہونے والے ایک اجلاس میں تفصیلی مشورے کرے گا۔

یورپی کمیشن ایسے کسی ممکنہ اقدام پر غور کرنے پر اس وجہ سے مجبور ہو گیا ہے کہ امریکی اور کینیڈین حکومتیں ابھی تک اپنے اس فیصلے پر قائم ہیں، جس کے تحت انہوں نے یورپی یونین کی رکن چند ریاستوں کے شہریوں کو یہ سہولت دینے سے انکار کر دیا تھا کہ وہ بغیر کسی ویزے کے امریکا اور کینیڈا جا سکتے ہیں۔

اس بارے میں روئٹرز نے اپنے ایک جائزے میں لکھا ہے کہ یورپی یونین اور امریکا کے مابین ایک آزاد تجارتی معاہدے کی منزل حاصل کرنے کے لیے جاری بہت پیچیدہ مذاکرات ابھی مکمل نہیں ہوئے۔ لیکن اگر ان حالات میں یورپ نے امریکی اور کینیڈین شہریوں کو اس بات کا پابند بنا دیا کہ وہ یورپی یونین کے کسی رکن ملک کا سفر کرنے سے پہلے لازمی طور پر ویزا حاصل کریں، تو یہ پیش رفت واشنگٹن اور برسلز کے مابین اُس کھچاؤ میں مزید اضافے کا باعث بنے گی، جو پہلے ہی سے پایا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ یہ بات بھی اہم ہے کہ یورپی یونین کے رکن چند خاص ملکوں کے شہریوں کے لیے ویزا فری سفر کی سہولت ختم کرنے کا فیصلہ پہلے امریکا اور کینیڈا نے کیا اور یورپی کمیشن اب جو کچھ بھی سوچ رہا ہے، وہ محض اس فیصلے کا ردعمل ہے۔ تاہم یہ سچ اپنی جگہ ہے کہ یہ سب کچھ ایسے وقت پر ہو رہا ہے جب امریکی صدر باراک اوباما کے اگلے دورہٴ یورپ میں دو ہفتے سے بھی کم کا وقت باقی بچا ہے۔

باراک اوباما اپنے اس آئندہ دورہٴ یورپ کے دوران یورپی یونین اور امریکا کے مابین مجوزہ فری ٹریڈ معاہدے کے بارے میں بھی بات چیت کریں گے۔

اس حوالے سے یورپی یونین کے چند اعلیٰ ذرائع نے روئٹرز کو بتایا، ’’یہ ایک ایسا اہم مسئلہ ہے جس پر سیاسی بحث اور فیصلے کی ضرورت ہے۔ لیکن یہ امکان بھی اپنی جگہ ایک حقیقی خطرہ ہے کہ یورپی یونین بالآخر اسی فیصلے کی طرف بڑھے گی کہ امریکا اور کینیڈا کے شہریوں کو آئندہ ویزا لے کر ہی یورپی یونین میں داخل ہونا پڑے گا۔‘‘

Symbolbild Schengener Abkommen Visum Europa Reisefreiheit

اس وقت یورپ کے چھبیس ممالک شینگن زون کے مشترکہ ویزا سسٹم کا حصہ ہیں

امریکا اور کینیڈا میں اس وقت مروجہ قوانین کے تحت یورپی یونین کے رکن ملکوں رومانیہ اور بلغاریہ کے شہری صرف ویزا لے کر ہی ان شمالی امریکی ملکوں میں داخل ہو سکتے ہیں۔ یہ دونوں ملک 2007 میں یورپی یونین کے رکن بنے تھے۔

اس طرح امریکا نے یورپی یونین کے شہریوں کو اپنے ہاں بغیر ویزے کے داخلے کی جو سہولت دے رکھی ہے، اس سے یونین کی رکن جن دیگر ریاستوں کے باشندے فائدہ نہیں اٹھا سکتے، وہ ریاستیں کروشیا، قبرص اور پولینڈ ہیں۔

یورپی یونین کی رکن ریاستوں کی تعداد 28 ہے اور یورپی یونین کے ویزا فری شینگن زون میں شامل ممالک کی تعداد 26 ہے۔ یہ چھبیس ممالک ایک مشترکہ ویزا سسٹم کا حصہ ہیں، یعنی کوئی بھی غیر یورپی شہری ان میں سے کسی ایک ملک کا ویزا لے کر باقی تمام 25 ممالک میں بھی جا سکتا ہے۔

لیکن ان 26 شینگن ریاستوں میں سے متعدد ایسی بھی ہیں، جو یونین کی رکن نہیں ہیں۔ دوسری طرف یورپی یونین میں شامل جن پانچ ریاستوں کے شہریوں کے لیے کینیڈا اور امریکا کا ویزا لینا لازمی ہے، ان میں سے پولینڈ تو شینگن زون میں بھی شامل ہے جبکہ باقی چار ملک (رومانیہ، بلغاریہ، کروشیا اور قبرص) شینگن معاہدے میں شامل ہونے والے ہیں۔

امریکی صدر باراک اوباما اپنے آئندہ دورہٴ یورپ کے دوران پہلے برطانیہ جائیں گے، جس کے بعد وہ 24 اپریل کو جرمن شہر ہینوور میں وفاقی چانسلر انگیلا میرکل کے ساتھ مل کر اس شمالی جرمن شہر میں ہونے والے ایک عالمی تجارتی میلے میں شرکت کریں گے۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات