1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

یورپ آنے والے مہاجرین کی تعداد میں کمی لیکن خطرہ برقرار

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اس برس بحیرہ روم کو عبور کر کے یورپ پہنچنے والے مہاجرین کی تعداد گزشتہ برس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ تاہم رواں برس گزشتہ سال کے مقابلے میں یہ تعداد چالیس فیصد کم ہی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے اقوام متحدہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ بیس ستمبر بروز منگل تک سن دو ہزار سولہ کے دوران بحیرہ روم کو عبور کر کے یورپ پہنچنے والے مہاجرین اور تارکین وطن کی تعداد تیس ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ اگرچہ رواں برس کے پہلے نو ماہ کے دوران یہ تعداد گزشتہ برس کے مقابلے میں بہت زیادہ کم ہے لیکن مہاجرت کے اس سفر میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

گزشتہ برس اس سمندری راستے سے یونان اور اٹلی پہنچنے والے مہاجرین کی مجموعی تعداد پانچ لاکھ بیس ہزار تھی۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق رواں برس البتہ سمندر عبور کرنے والوں کی موت میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔

سن دو ہزار سولہ کے دوران اب تک سمندر میں لاپتہ یا ڈوب کر ہلاک ہو جانے والے مہاجرین اور تارکین وطن کی تعداد تین ہزار دو سو اکیس ہے، جو گزشتہ پورے برس کے مقابلے میں صرف پندرہ فیصد ہی کم بنتی ہے۔ گزشتہ برس سمندری راستے سے یورپ پہنچنے کی کوشش میں ہلاک ہو جانے والے افراد کی تعداد تین ہزار سات سو اکہتر تھی۔

اس برس اٹلی پہنچنے والے مہاجرین کی تعداد ایک لاکھ تیس ہزار چار سو گیارہ بنتی ہے۔ سن دو ہزار پندرہ کے پہلے نو ماہ کے دوران بھی اتنے ہی مہاجرین اٹلی کے ساحلوں تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

دوسری طرف یونان پہنچنے والے مہاجرین کی تعداد میں نمایاں کمی نوٹ کی گئی ہے۔ اس برس مجموعی طور پر ایک لاکھ پینسٹھ ہزار سات سو پچاس افراد یونانی جزائر تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

Griechenland Ankunft Syrische Flüchtlinge

یونان پہنچنے والے مہاجرین کی تعداد میں نمایاں کمی نوٹ کی گئی ہے

گزشتہ برس اسی عرصے میں وہاں پہنچنے والے مہاجرین اور تارکین وطن کی تعداد کے مقابلے میں اس برس ستاون فیصد کی کمی ہوئی ہے۔ اس کمی کے لیے ترکی اور یورپی یونین کی مہاجرین سے متعلق ڈیل کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔