1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

یورپ آنے والے مہاجرین کی تعداد میں کمی، تازہ اعداد و شمار

رواں برس کی پہلی سہ ماہی کے دوران یورپی یونین آنے والے پناہ کی متلاشی افراد کی تعداد میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے میں دو لاکھ نوے ہزار سے کم مہاجرین نے پناہ کی درخواستیں جمع کرائی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے یورپی یونین کے شماریاتی دفتر یورو اسٹیٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ اٹھائیس رکنی یورپی یونین میں سیاسی پناہ کے متلاشیوں کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔

گزشتہ برس کی آخری سہ ماہی کے مقابلے میں رواں برس کے ابتدائی تین مہینوں میں یورپ آنے والے مہاجرین اور تارکین وطن کی تعداد میں ایک تہائی کی کمی واقع ہوئی ہے۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد یورپی ممالک کو مہاجرین کے سب سے بڑے بحران کا سامنا ہے جبکہ اس بلاک میں مہاجرین کی آمد کو روکنے کے لیے اس بلاک نے متعدد اقدامات بھی اٹھائے ہیں۔

گزشتہ برس شورش زدہ اور تنازعات کے شکار متعدد ممالک سے 1.3 ملین افراد یورپی ممالک تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

یورپی یونین کے شماریاتی دفتر نے بدھ کے دن بتایا کہ گزشتہ برس کے آخری تین ماہ یعنی اکتوبر تا دسمبر مجموعی طور پر چار لاکھ چھبیس ہزار مہاجرین یورپ پہنچے تھے جبکہ اس سال کی پہلی سہ ماہی میں اس تعداد میں 33 فیصد کی کمی دیکھی گئی ہے۔

گزشتہ برس یورپی ممالک پہنچنے والے زیادہ تر مہاجرین کا تعلق شام سے تھا، جن کی مجموعی تعداد ایک لاکھ سے زائد بنتی ہے۔ شام میں خانہ جنگی بڑے پیمانے پر ہونے والی اس مہاجرت کا سبب قرار دی جاتی ہے۔

تاہم عراق اور افغانستان سے بھی لوگوں کی ایک بڑی تعداد یورپ پہنچی ہے۔ یورو اسٹیٹ کے مطابق ان دونوں ممالک سے بھی پینتیس پینتیس ہزار کے قریب لوگ یورپی یونین آئے۔

Griechenland Flüchtlinge von Afghanistan und Pakistan

گزشتہ برس شورش زدہ اور تنازعات کے شکار متعدد ممالک سے 1.3 ملین افراد یورپی ممالک تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے تھے

گزشتہ برس جب مہاجرت کا بحران شدید ہوا تھا، تو جرمنی نے ان بے گھر افراد کے لیے اپنے ملک کے دروازے کھول دیے تھے۔

یورو اسٹیٹ کے مطابق اس برس بھی یورپ پہنچنے والے مہاجرین اور تارکین وطن کا من پسند ملک جرمنی ہی ہے، جہاں وہ آباد ہونا چاہتے ہیں۔

یورو اسٹیٹ کے یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ یورپی ممالک کی طرف سے مہاجرین کی یورپ آمد کو روکنے کی کوششیں کارگر ثابت ہو رہی ہے۔