1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورپی یونین یونان کی امداد پر متفق

یورپی یونین کے سربراہی اجلاس میں مالی بحران کے شکار ملک یونان کو ایک نئے امدادی پیکج کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

default

یورپی یونین کے صدر رومپوئے

برسلز میں یورپی یونین کے سربراہی اجلاس کے پہلے روز سامنے آنے والے ایک اعلامیے کے مطابق یورپی یونین کے وزرائے خزانہ کو ہدایات دی گئیں ہیں کہ جولائی کے آغاز میں ہی اس امدادی پیکج پرکام مکمل کر لیا جائے۔ تاہم اس حوالے سے یونانی پارلیمان کو حکومت کے بچتی پروگرام کو منظور کرنا ہو گا۔

اعلامیے میں یونان کی اپوزیشن جماعتوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس حوالے سے حکومت سے تعاون کریں۔ ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق یونان کے لیے یہ نیا امدادی پیکج 120 ارب یورو تک کی مالیت کا ہے۔ اس سے قبل پورپی یونین اور عالمی مالیاتی ادارے کی جانب سے یونان 110 ارب یورو کا امدادی پیکج گزشتہ برس دیا جا چکا ہے۔ امداد کے بغیر یونان کے دیوالیہ ہونے کا خدشہ ہے اور اس صورتحال میں یورپ کی مشترکہ کرنسی یورو کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

NO FLASH Gipfeltreffen in Brüssel Angela Merkel

جرمن چانسلر میرکل

یونان کے اپوزیشن لیڈر اینٹونس سماراس کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت، یورپیئن پیپلز پارٹی حکومت کے بچتی پروگرام کی حمایت نہیں کرے گی۔ اس کی وجہ انہوں نے یہ بتائی کہ حکومتی بچتی پروگرام یونان کی معیشت کے لیے مزید نقصان دہ ثابت ہوگا۔ یورپی یونین کے رہنماؤں نے یونانی اپوزیشن کے طرز عمل پہ تنقید کی ہے۔

ادھر یونان کے نئے وزیر خزانہ نے یورپی یونین اور آئی ایم ایف کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے، جس کے ذریعے یونان میں زیادہ آمدنی کے حامل افراد پر ایک سے پانچ فیصد تک ’سولیڈیریٹی ٹیکس‘ یا ملک سے یکجہتی کا ٹیکس لگایا جائے گا۔

یورپی یونین کے صدر ہرمن فان رومپوئے کا کہنا ہے کہ یونان کے لیے بیل آؤٹ پیکج میں یورو زون سے باہر کے ممالک، جیسا کے برطانیہ، کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔

یورو زون کے وزرائے خزانہ کا اجلاس تین جولائی اور گیارہ جولائی کو ہوگا، جس میں یونان سے متعلق حتمی فیصلہ لیا جا سکتا ہے۔

یورپی یونین کا سربراہی اجلاس آج جمعہ کے روز بھی جاری رہے گا، جس میں لیبیا کی صورت حال، شینگن زون اور دیگر امور پر تبادلہ خیال ہوگا۔

رپورٹ: شامل شمس⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM