1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورپی یونین کے وزراء کا مہاجرین کی تقسیم پر اختلاف

یورپی یونین کے وزرائے داخلہ انتہائی تگ و دو کے بعد آئندہ دو برسوں کے دوران چالیس ہزار مہاجرین کو مختلف یورپی ممالک میں پناہ دینے پر راضی ہو گئے ہیں۔

یورپی یونین کے وزرائے داخلہ برسلز میں جاری اپنی ملاقات میں البتہ مہاجرین کی تقسیم پر اختلافات کا شکار ہیں۔ اس میٹنگ میں یورپی رہنما ایک لاکھ بیس ہزار مہاجرین کو رکن ممالک میں منصفانہ طور پر آباد کرنے پر مذکراے کر رہے ہیں۔ تاہم اس اجلاس میں چالیس ہزار مہاجرین کو مختلف ممالک پر پناہ دینے پر اتفاق کر لیا گیا ہے۔

یورپی ملک لگسمبرگ کے وزیر داخلہ ژاں ایسیلبورن کا پیر کے روز برسلز میں ہونے والے اجلاس کے دوران کہنا تھا، ’’یہ ایک اہم سیاسی پیغام ہے کہ لوگوں کو آباد کیا جائے تاکہ ان کی بین الاقوامی سطح پر دیکھ بھال شروع کی جا سکے۔‘‘

مذکورہ چالیس ہزار مہاجرین کو اٹلی اور یونان سے دیگر یورپی ممالک میں آباد کیا جائے گا، تاہم ایسا یورپی ممالک رضاکارانہ طور پر کر رہے ہیں۔ یورپی یونین کی کوشش ہے کہ ایک لازمی کوٹا نافذ کیا جائے جو بلاک کے تمام رکن ملکوں کو ایک مخصوص تعداد میں مہاجرین کو پناہ دینے کا پابند بنا سکے تاکہ کسی ایک ملک پر زیادہ بوجھ نہ پڑے۔

اس فیصلے سے یہ بھی سہولت پیدا ہو گئی ہے کہ یونان اور اٹلی میں شام، لیبیا اور عراق جیسے ممالک سے یورپ آنے والے پناہ گزینوں کا درست طور پر قانونی اندراج کا جا سکے گا۔

خانہ جنگی کا شکار مشرق وسطیٰ کے ممالک سے ہزاروں کی تعداد میں افراد بذریعہ سمندر یورپی کا رخ کر رہے ہیں جس کے باعث یورپی میں ایک بحران کی سی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔

برسلز میں پیر کے روز ہونے والے مذاکرات انتہائی پیچیدہ اور مشکل تھے اور مہاجرین کے مسئلے پر یورپی ممالک، بالخصوص براعظم کی کم زور معیشتوں کے تحفظات ہیں۔ مہاجرین کی جوق در جوق آمد سے ان ممالک کی معیشتوں پر بوجھ بڑھ رہا ہے اور یہاں موجود دائیں بازو کی تنظیمیں اس کی مخالفت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں۔

جرمنی کی جانب سے سرحدی نگرانی

ادھر جرمن حکومت نے اتوار سے جرمنی میں داخل ہوتے وقت شناختی عمل کو متعارف کروا دیا ہے۔ جرمنی کی جنوبی ریاست باویریا کے وزیر داخلہ ژواخم ہرمان نے عندیہ دیا ہے کہ جرمن بارڈر کنٹرول کم از کم کئی ہفتے نافذ رہ سکتا ہے۔ ہرمان کے مطابق اِس کا مقصد مہاجرین کی جرمن آمد کے عمل میں سست روی پیدا کرنا ہے۔ ہرمان کے مطابق یہ فیصلہ مہاجرین کے فائدے میں ہے اور اِس کے ساتھ ساتھ یہ جرمنی کی ریاستی سلامتی کے لیے بھی اہم ہے۔

جرمن ریاست کے وزیرِداخلہ کے مطابق بارڈر کنٹرول کی ضرورت اِس لیے پیدا ہوئی کہ مہاجرین کے ہجوم میں بہت سارے جعلی مہاجرین بھی شامل ہیں اور ان پر قابو پانا اہم ہے۔