1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

یورپی یونین کے نئے بجٹ میں کٹوتی کا فیصلہ

یورپی یونین نے کے رکن ممالک نے یونین کے آئندہ سال کے بجٹ میں وسیع تر کٹوتی کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کے اطلاق سے یورپی یونین کی عالمی سیاست میں متحرک کردار ادا کرنے کی خواہش کو ٹھیس پہنچ سکتی ہے۔

default

یورپی یونین کی رکن ریاستوں کی تعداد 27 ہے اور انہوں نے اس پر اتفاق کیا ہے کہ یورپی یونین کے اگلے سال کے بجٹ میں کم از کم چار ارب یورو کی کٹوتی کردی جائے۔ ان ریاستوں میں یونین کے اگلے سال کے بجٹ کے لئے مختص رقم پر بھی رضامندی سامنے آ ئی ہے۔ یورپی یونین کا سن 2011 کا بجٹ 126ارب یورو سے زائد ہے۔ جٹ کی جو ابھی تک صورت بنی ہے، اب اس پر یورپی پارلیمنٹ میں بحث ہو گی اور کمیشن کے ساتھ مذاکراتی عمل بھی جاری رکھا جائے گا۔ بجٹ کی منظوری اکتوبر میں متوقع ہے۔

کم بجٹ کی تجویز پر ڈنمارک اور برطانیہ نے دستخط کرنے سے انکار کردیا ہے۔ اس انکار سے یورپی یونین کے گزشتہ سال کے بجٹ میں تقریباً تین فی صد کا خود بخود اضافہ متوقع ہے۔ لندن میں ڈنمارک کے وزیر اعظم لارس

Jean Claude Juncker

یورپی یونین کے اجلاس میں لکسمبرگ کے وزیر اعظم

لوئکے راسموسن اور برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے درمیان اتفاق ہے کہ بجٹ میں اگر اضافہ ممکن نہیں تو ایک مناسب رفتار کے ساتھ کمی کی جائے۔ دونوں وزرائے اعظم نے ایک ساتھ بڑی کمی کو نامناسب خیال کیا ہے۔

یورپی یونین کے سالانہ بجٹ میں دو ارب یورو کی کٹوتی غریب یورپی ملکوں کی جانب سے سامنے آئی ہے۔ فرانس کی جانب سے آٹھ سو ملین کی کمی کا عندیہ سامنےآیا ہے۔ ممبر ملکوں نے یورپی یونین کے ملازمین کی تنخواہوں میں ممکنہ اضافے کے مطالبے کو قبول نہیں کیا۔ یہ معاملہ خاصی تکرار کا باعث بنا ہوا ہے اور اس بارے میں ایک اپیل یورپی عدالت برائے انصاف میں دائر ہے۔ یہ ممالک نئی بھرتی کی بھی مخالفت کر رہے ہیں۔ یونین نے اس مخالفت کے تناظر میں نئی آسامیوں کو منجمد کردیا ہے۔ اس کے علاوہ یورپی یونین کے اخراجات میں بھی تین چوتھائی کمی کا براہ راست مطالبہ سامنے آیا ہے۔ اس حوالے سے برطانوی وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ ممبر ملکوں اور یونین کے درمیان مشکل بات چیت کا دور شروع ہونے والا ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اگر کٹوتی کا عمل ممکن ہو جاتا ہے تو اس سے یورپی یونین کی عالمی سرمایہ کاری کی ان کوشش کو ضرب پہنچ سکتی ہے جو بطور گلوبل لیڈر کے ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ ممبر ملکوں کی جانب سے بجٹ میں کمی شاید عالمی کساد بازاری اور اقتصادی ترقی کی شرح میں سست رفتاری کے تناظر میں کیا گیا ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس