1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورپی یونین کے صدر ملک ہنگری کی نئی مشکلات

پہلی جنوری سے اگلے چھ ماہ کے لئے یورپی یونین کی ششماہی صدارت ہنگری کو منتقل ہو چکی ہے۔ اس منتقلی سے قبل ہی بوڈاپیسٹ حکومت کو میڈیا قوانین پر تنقید کا سامنا تھا اور ٹیکسوں کا معاملہ بھی اب کھڑا ہو گیا ہے۔

default

بوڈاپیسٹ: احتجاج، ہونٹوں پر ٹیپ

ایک دوسرے یورپی ملک آسٹریا کی ایک بڑی کمپنی او ایم وی (OMV AG) کے چیف ایگزیکٹو کی جانب سے برسلز کو لکھے جانے والے ایک شکایتی خط سے ہنگری کے اندر ٹیکس کے تنازعے سے یورپی اقوام کو آ گہی ہوئی تھی۔ خط گزشتہ سال لکھا گیا تھا۔ اس مناسبت سے یورپی کمیشن کے ترجمان اولیور بیلی کے مطابق ہنگری کی حکومت کو ٹیکس بابت خط تحریر کیا گیا تھا اور اس کا جواب بھی دے دیا گیا ہے۔ بیلی کے مطابق شکایتی خط اور حکومتی جواب کے مندرجات کا تقابلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

Jose Manuel Barroso und Viktor Orban

وکٹور اوربان اور یوری کمیشن کے سربراہ بارروسو

شکایتی خط میں یورپی کمیشن کو مطلع کیا گیا تھا کہ بوڈاپیسٹ حکومت ملکی بجٹ کے اندر توازن پیدا کرنے کے حوالے سے منتخب مالی سیکٹرز پر عمومی طور پر اور غیر ملکی کمپنیوں پر خصوصی طور پر بھاری شرح سے ٹیکس لاگوکرنے کا پلان بنا چکی ہے۔

آسٹریا کی کمپنی کے مطابق ہنگری حکومت کی یہ پالیسی یورپ کی اندرونی مالی مارکیٹ کے اصولوں کے منافی ہونے کے علاوہ بیرونی سرمایہ کاری کے رجحان کی حوصلہ شکنی کے برابر ہے۔ ٹیکس خاص طور پر مواصلات اور توانائی کے شعبے میں لگایا گیا ہے۔ اس میں رواں سال کے اندر بھی اضافہ تجویز کیا جا چکا ہے۔

ہنگری کے موجودہ وزیر اعظم وکٹور اوربان کی حکومت کے پاس انتہائی مضبوط عوامی مینڈیٹ ہے۔ پارلیمنٹ میں اس حکومت کو دو تہائی سے زائد کی اکثریت حاصل ہے۔ اس تناظر میں موجودہ حکومت ٹیکس کے حجم کی توسیع کرنے میں اپنے مینڈیٹ کا سہارا لے رہی ہے۔ حکومت کے مطابق یہ تمام پالیسیاں ہنگری کے قومی مفاد کے تناظر میں مرتب کی گئی ہیں۔ ہنگری حکومت کے اس ٹیکس نظام کے حوالے سے جرمن حکومت کی جانب سے تحفظات سامنے آئے ہیں۔

Zeitungen Ungarn Budapest

پیر کو میڈیا قوانین کے خلاف احتجاج کی صورت میں بوڈاپیسٹ کے اخبارات کے صاف صفحے

اس کے ساتھ ساتھ ہنگری کو حال ہی میں متعارف کروائے جانے والے میڈیا قوانین پر بھی ملک اور یورپ کے اندر تنقید کا سامنا ہے۔ ان کا نفاد پہلی جنوری سے ہو چکا ہے۔ اوربان حکومت نے اس حوالے سے مغربی یورپی ملکوں کی تنقید کو ناقص معلومات پر مبنی قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔ حکومت نے یورپی یونین کی جانب سے اپنے میڈیا لاز پر نظرثانی کرنے کی تجویز کا خیر مقدم بھی کیا ہے۔ اس میڈیا ایکٹ کے حوالے سے اوربان حکومت نے یورپ کے علاقائی سلامتی کے ادارے OSCE کے ساتھ بات چیت کی دعوت گزشتہ سال کے آخری دنوں میں پیش کردی تھی۔

یورپی یونین کے مختلف ملکوں میں ہنگری کے اندر حال ہی میں متعارف کروائے جانے والے سخت میڈیا قوانین پر نا پسندیدگی کا عنصر بظاہر حکومتی سطح پر کھل کرسامنے نہیں آیا ہے۔ اس قانون کے تحت حکومت کو نشریاتی اور اشاعتی مواد کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ کے استعمال پر کنٹرول حاصل ہو گیا ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: امتیاز احمد جٹ

DW.COM

ویب لنکس