1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورپی یونین کی پچاسویں سالگرہ

یورپی یونین کے رکن ملکوں کی تعداد ستائیس ہے لیکن اس کے پرچم پربارہ ستارے کیوں ہے؟ اس کا رنگ نیلا کیوں ہے؟ اور اس کا ترانہ کون سا ہے ؟ یورپی یونین کی پچاسویں سالگرہ کے موقع پر یہ اور اس طرح کے کئی سوالات پوچھے جا رہے ہیں۔

default

25 مارچ سن 1957 کو چھ ملکوں کے درمیان طے پانے والے معاہدہ روم کو یورپی یونین کی ابتداءسے تعبیر کیا جاتا ہے لیکن اس خواب نے کئی سالوں بعد حقیقت کا روپ دھارا ۔ اس سے بھی پہلے 1955 میں کونسل آف یورپ نے ایک متفقہ پرچم کی منظوری دی جس کا رنگ نیلا تھا ۔ آسمان کا رنگ نیلا ہے اور جب سب ملکوں کے درمیان سرحدوں کا تصور ختم ہوجائے گا تو پھر آسمان سمیت کسی بھی بات میں تفریق کیا معنی رکھتی ہے ۔ یورپی یونین کے پرچم پر بارہ ستاروں کا رکن ممالک کی تعداد سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ بارہ برجوں ، بارہ ساعتوں یا پھر سال کے بارہ مہینوں کی مناسبت سے رکھے گئے ہیں ۔انہیں ایک دائرے کی شکل دینا اتحاد کی علامت ہے۔

یورپی یونین کے ترانے کے لئے مشہور جرمن موسیقار Ludwig Van Beethoven کی شاہکار نویں Symphony کے چوتھے درجے کے ابتدائیے Ode to joy کا انتخاب کیا گیا ۔ 1823 میں Beethoven نے فریڈرش شلر کی Ode to joy کو موسیقی کے آہنگ میں ڈھالا اور اسے لافانی بنا دیا ۔ اس نظم میں آزادی ، امن اور یکجہتی کی بات کی گئی ہے۔یورپی یونین نے 1985 میں اسے تنظیم کا ترانہ قرار دیا ۔ یہ یورپی اقوام کی جانب سے قومی ترانوں کا متبادل نہیں بلکہ اتحاد پر خوشی کا ایک اظہار ہے ۔

تنوع میں اتحاد ، یہ ہے وہ امتیازی نعرہ جسے یورپی یونین کے موٹو کی حیثیت حاصل ہے ۔

سن 2000 میں زبان زد عام ہونے والے اس موٹو کو 2004 میں آئینی معاہدے کی تشکیل کے وقت سرکاری حیثیت سے اختیار کیا گیا ۔ گو آئین معاملات پر ابھی تک رکن ممالک اختلافات کا شکار ہیں لیکن تنوع میں اتحاد کے نعرے پر سب اتفاق کرتے ہیں ۔ نو مئی 1950 کو فرانسیسی وزیر خارجہ رابرٹ شومان نے ایک متحدہ اور پرامن یورپ کی تجویز پیش کی تھی ،اسی مناسبت سے 1985 میں نو مئی کو یورپ ڈے قرار دیا گیا ۔