1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

یورپی یونین کی صدارت: کارکردگی اور توقعات

سال رواں کی پہلی ششماہی کے دوران یورپی یونین کی صدارت چیک جمہوریہ کے پاس رہی جس دوران کئی اہم فیصلے کئے گئے۔ یکم جولائی سے یونین کی صدارت سویڈن کو منتقل ہو چکی ہے جس کی ان ذمہ داریوں کے حوالے سے ترجیحات بہت واضح ہیں۔

default

اس سال یکم جنوری سے شروع ہونے والے چیک جمہوریہ کی طرف سے یورپی یونین کی صدارت کے عرصے کی تیس جون کے روز تکمیل تک ستائیس رکنی یونین کے متعدد سربراہی اور بہت سے وزارتی اجلاس منعقد ہوئے۔ اگر چھ ماہ پر محیط اس عرصے کے دوران ہونے والے تمام اجلاسوں کو گنا جائے توان کی تعداد تین ہزار کے قریب رہی اور ان جملہ کارروائیوں پر قریب 75 ملین یورو خرچ ہوئے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ چیک جمہوریہ کی طرف سے یورپی یونین کی صدارت کے ششماہی عرصے کا مجموعی میزانیہ کیسا رہا؟

اس بارے میں خود چیک وزیر اعظم ژان فشر کہتے ہیں: "ہم نے یہ ثابت کردیا ہے کہ یونین کا رکن کوئی نیا ملک جو بہت چھوٹا بھی ہو، وہ یورپی اتحاد کے عمل میں اس طرح نئی تحریک پیدا کرسکتا ہے کہ اس کے اثرات کو باقاعدہ طور پر محسوس بھی کیا جاسکے۔"

EU Gipfel in Berlin

یورپی یونین کے رکن ممالک کے حکومتی نمائندے ایک اجلاس میں شریک ہیں

چیک جمہوریہ کی طرف سے یورپی یونین کی صدارت کا پہلا تجربہ خود پراگ حکومت اور باقی رکن ملکوں کے لئے کیسا رہا؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ یکم جنوری کو جب یونین کی صدارت چیک جمہوریہ کو منتقل ہوئی تو یہ امر واضح تھا کہ پراگ حکومت اپنی اولین یورپی ذمہ داریوں کو کامیابی سے نبھانے کی پوری کوشش کرے گی۔ تاہم یہ بات قطعی غیر یقینی تھی کہ یہ ملک اپنی ان کوششوں میں کامیاب بھی رہے گا۔

خارجہ سیاسی چیلنج

یورپی یونین کی صدارت سنبھالتے ہی چیک جمہوریہ کو روس اور یوکرائن کے مابین گیس کے تنازعے کی صورت میں ایک بڑے چیلنج کا سامنا کرنا پڑ گیا۔ پھر غزہ پٹی کے علاقے میں کشیدگی اسرائیل اور فلسطینی تنظیم حماس کے مابین باقاعدہ جنگ کی صورت اختیار کر گئی تو خارجہ سیاست میں کم تجربے والے ملک چیک جمہوریہ کے لئے یہ اس کی سفارتی صلاحیتوں کا ایک نیا امتحان بن گیا۔ اس دور کے چیک وزیر اعظم مِیرَک ٹوپولانیک کو مسلسل سفارتی کوششیں کرنا پڑیں لیکن انہوں نے ماسکو اور کی ایف کے مابین گیس کے تنازعے کے باعث پیدا ہونے والے بحران کو کامیابی سے حل کرانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔

غزہ پٹی کی جنگ

غزہ پٹی کی گذشتہ جنگ میں ہونے والے خونریزی کو رکوانے کے لئے چیک جمہوریہ کی کوششیں زیادہ نتیجہ خیز ثابت نہ ہوسکیں۔ اس بارے میں پراگ حکومت میں یورپی امور کے وزیر مارَیک مورا کہتے ہیں کہ غزہ کی جنگ کے سلسلے میں یونین کی کاوشوں کو ناکامی کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ "مشرق وسطیٰ کا تنازعہ گزشتہ پچاس ساٹھ برس بلکہ اس سے بھی زیادہ عرصے سے حل نہیں ہوا۔ ہم پر یہ حقیقت بھی واضح تھی کہ چیک جمہوریہ صرف چھ ماہ میں اس مسئلے کا حل نہیں نکال سکے گا۔"

Lage in Gaza - Flash-Galerie

غزہ پٹی میں خونریزی رکوانے کے لئےچیک جمہوریہ نے یونین کے صدر ملک کے طور پر بہت کوششیں کیں

امریکی، یورپی سمٹ

اس سال جنوری سے جون کے آخر تک کے عرصے میں یورپی یونین کے لئے ایک بہت اہم موقع اپریل کے شروع میں ہونے والی امریکہ اور یورپی یونین کی سربراہی کانفرنس تھی۔ اس کانفرنس کے لئے پراگ میں قیام کے دوران امریکی صدر باراک اوباما نے جب وہاں عام شہریوں کے ایک بہت بڑے اجتماع سے خطاب کیا تو وہ ان کا امریکی صدر کے طور پر یورپ میں پہلا عوامی خطاب تھا۔

اپریل ہی کے مہینے میں پراگ میں وزیر اعظم مِیرَک ٹوپولانیک کی حکومت اپوزیشن کے سوشل ڈیموکریٹ ارکان کی طرف سے تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں پارلیمانی اکثریت کی تائید سے محروم ہو گئی اور چیک ریاست ایک داخلی سیاسی بحران سے دوچار ہو گئی۔

ٹوپولانیک کے جانشین فشر

نو مئی کو پراگ میں مِیرَک ٹوپولانیک نے ملکی وزیر اعظم اور یورپی یونین کی کونسل کے صدر کے طور پر اپنی ذمہ داریاں نئے سربراہ حکومت ژان فشر کے حوالے کردیں جو تب تک ملکی محکمہ شماریات کے سربراہ چلے آرہے تھے۔ انہی دنوں میں چیک جمہوریہ کو یونین کے معاہدہ لزبن کی باقی ماندہ ملکوں کی طرف سے حتمی توثیق کے حوالے سے بھی کئی طرح کی مشکلات کا سامنا رہا اور لزبن کے معاہدے کی کل ستائیس میں سے چار ملکوں نے ابھی تک توثیق نہیں کی۔ پھر بھی نئے چیک وزیر اعظم نے اپنی ملکی اور یورپی ذمہ داریوں کو بہتر سے بہتر طور پر پورا کرنے کی کوششیں کیں۔

Tschechien Jan Fischer neuer Ministerpräsident

چیک وزیر اعظم ژان فشر

وہ کہتے ہیں: "میری سب سے پہلی ترجیح یہ تھی کہ یورپی یونین کی کونسل کے کام کو کامیابی سے جاری رکھا جائے اور چیک جمہوریہ کے لئے یونین کی صدارت کے عرصے کی تکمیل کامیابی سے ہونی چاہئے۔" چیک جمہوریہ کی طرف سے یونین کی سربراہی کا عمل کتنا کامیاب رہا، اس بارے میں خود یورپی یونین کے کمیشن کے صدر یوزے مانوئل باروسو کہتے ہیں: "مجھے شروع ہی سے یقین تھا کہ چیک جمہوریہ کے لئے یونین کی صدارت کا عرصہ کامیاب رہے گا۔ یہ امر متاثر کن ہے کہ اپنے ہاں ایک بڑے سیاسی بحران کے باوجود چیک جمہوریہ نے شاندار کامیابی حاصل کی۔ کسی بھی عمل کے اختتام پر سب سے اہم بات نتائج ہوتے ہیں اور چیک جمہوریہ نے یہ نتائج اچھی طرح حاصل کئے۔"

سویڈن کی یورپی احتیاط پسندی

چیک جمہوریہ کے بعد یکم جولائی سے سال رواں کے آخر تک یورپی یونین کی صدارت سویڈن کو منتقل ہو گئی۔ سویڈن میں شہریوں کی عموی سوچ کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ اس شمالی یورپی ریاست کے عوام یونین کے حوالے سے قدرے احتیاط پسندی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ لیکن ایسا نہیں ہے کہ سویڈن کے باشندوں میں باقی ماندہ یورپ کے ساتھ انضمام کی سوچ کی کمی ہے۔

سویڈش حکومت ماضی میں یورپی معاملات میں ہمیشہ اصلاحات اور بہتر فیصلہ سازی کی حامی رہی ہے۔ اسی لئے اس مہینے جب سٹاک ہولم کو یونین کی سربراہی کی ذمہ داریاں منتقل ہوئیں تو یہ واضح کردیا گیا کہ سب سے زیادہ اور فوری توجہ بین الاقوامی مالیاتی بحران کے اثرات کے مقابلے اور تحفظ ماحول کو دی جائے گی۔

یورپی نقطہ نظر سے مشکل دور

سویڈن کو یونین کی صدرارت ایک ایسے وقت پر ملی ہے جسے واقعی ایک مشکل دور کہا جاسکتا ہے۔ سب سے بڑی منزل لزبن کے معاہدے کی باقی ماندہ رکن ریاستوں کی طرف سے حتمی توثیق ہو گی کیونکہ اسی معاہدے کے ذریعے یونین کے ذیلی اداروں میں اصلاحات لائی جاسکیں گی۔ یورپی پارلیمانی انتخابات کے بعد ایک اہم مرحلہ یورپی کمیشن کے ارکان کی نئی نامزدگی ہو گی جس کے لئے یورپی پارلیمان کی منظوری بھی لازمی ہوتی ہے۔ یونین کے رکن ملکوں کے سربراہان مملکت وحکومت متفقہ رائے سے یہ تائید کرچکے ہیں کہ یورپی کمیشن کے موجودہ صدر اور پرتگال کے سابق وزیر اعظم یوزے مانوئل باروسو کو ہی دوبارہ یورپی کمیشن کا نیا صدر بنا دیا جائے۔ ان کی نامزدگی سے یورپی پارلیمان کے کئی ارکان اتفاق نہیں کرتے اور اسی لئے باروسو کے یورپی کمیشن کے نئے صدر کے طور پر دوبارہ انتخاب کا معاملہ پارلیمانی تائید حاصل تو کر لے گا مگر بظاہر کافی بحث کے بعد۔

سٹاک ہولم کی یورپی ترجیحات

Schweden Frankreich EU Nicolas Sarkozy und Fredrik Reinfeldt zu Iran

سویڈش وزیراعظم رائن فیلڈ فرانسیسی صدر سارکوزی کےساتھ

یورپی امور کی سویڈش خاتون وزیر سیسیلیامالشٹروئم کہتی ہیں: "ہمارے لئے دو سب سے اہم مسائل معاشی بحران اور ماحولیاتی تبدیلیاں ہیں۔ ہم اپنی پوری کوشش کریں گے کہ کوپن ہیگن میں ہونے والی اقوام متحدہ کی ماحولیاتی کانفرنس میں کوئی ایسا عالمگیر معاہدہ طے پا جائے جس کے ذریعے فضا میں سبز مکانی گیسوں کے اخراج میں کمی کو یقینی بنایا جاسکے۔ ہمیں لازمی طور پر اس بات کا اہتمام کرنا ہوگا کہ یورپی یونین کی آواز ایک ہونا چاہیئے اور ہم اکٹھے رہیں۔ ہم ایسے راستے تلاش کریں گے جن پر چلتے ہوئے معاشی اور ماحولیاتی بحرانوں سے نکلا جاسکے اور ماحول دوست معاشی ترقی کو یقینی بنایا جاسکے۔"

مسائل کا حل ادراک کے ذریعے

سویڈن کے قدامت پسند وزیر اعظم فریڈرِک رائن فَیلڈ کے بقول موجودہ حالات میں یورپی یونین کو خود کو درپیش مسائل کا اس طرح ادراک ہونا چاہیے کہ اِن مسائل کو جلد از جلد اور بہتر سے بہتر انداز میں حل بھی کیا جاسکے۔ رائن فیلڈ کہتے ہیں: "مسئلہ یہ ہے کہ یورپ اب ایک ایسے نقطے پر پہنچ گیا ہے جہاں اُس نے وہ سب کچھ کرلیا ہے جو وہ کرسکتا تھا۔ کئی یورپی ملکوں کو اپنے ہاں سالانہ بجٹ میں شدید خسارے کا سامنا ہے جو بذات خود بہت سے نئے مسائل کی وجہ بن رہا ہے۔ ہمیں ان سب کا حل نکالنا ہوگا، مثلا اس مالیاتی خسارے سے نکلنے کے لئے بہت زیادہ شرح سود اور ٹیکسوں میں اضافے جیسے ممکنہ مسائل۔"

سویڈن سے وابستہ توقعات

یورپی یونین کے رہنماؤں اور عوام کی موجودہ صدر ملک سے وابستہ توقعات کا مجموعی میزانیہ یہ ہے کہ سویڈن کی سربراہی میں سال رواں کے آخر تک یونین کو درپیش موجودہ داخلی اور خارجہ صورت حال بہت بہتر ہو چکی ہو گی۔ اس کی ایک وجہ تو وزیر اعظم فریڈرک رائن فیلڈ کی واضح سوچ ہے اور دوسری سابق وزیر اعظم اور موجودہ وزیر خارجہ کارل بلٹ جو بہت تجربہ کار ہیں اور جن کا بین الاقوامی سطح پر بہت احترام کیا جاتا ہے۔