1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

یورپی یونین کی شینگن زون میں نافذ بارڈر کنٹرول میں توسیع کی درخواست

یورپی یونین نے سفارش کی ہے کہ پاسپورٹ فری شینگن زون میں نافذ بارڈر کنٹرول میں تین ماہ کی توسیع کی جائے۔ شینگن زون میں مہاجرین کے بحران کے تناظر میں سرحد پر کنٹرول بڑھا دیا گیا تھا۔

Symbolbild EU Schengen-Raum Ende Schengener Abkommen (Reuters/W. Rattay)

یورپی یونین نے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ رواں برس کے آخر تک شینگن زون میں بارڈر کنٹرول کا مکمل خاتمہ چاہتی ہے

 

یورپی کمیشن نے پچیس اکتوبر بروز منگل اپنے ایک بیان میں رکن ممالک سے سرحدی کنٹرول میں تین ماہ توسیع کی تجویز دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق یورپی کمیشن کی درخواست کا منظور ہونا تقریبا طے ہے۔ اِس فیصلے کا مطلب یہ ہو گا کہ جرمنی، آسٹریا، ڈنمارک، سویڈن اور یورپی یونین کے غیررکن ملک ناروے کی سرحدوں تک پہنچنے والے تارکینِ وطن کو سرحدی جانچ پڑتال کا سامنا کرتے رہنا ہو گا۔

 بارڈر کنٹرول میں تین ماہ کی توسیعی مدت کا آغاز تیرہ نومبر سے ہو گا۔ یورپی یونین نے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ رواں برس کے آخر تک شینگن زون میں بارڈر کنٹرول کا مکمل خاتمہ چاہتی ہے۔ تاہم کنٹرول کی مدت میں توسیع کی درخواست برلن، ویانا اور کوپن ہیگن کی حکومتوں کی جانب سے تارکین وطن کے شمالی یورپ کے ممالک کی طرف سفر جاری رکھنے کے خدشات کے تناظر میں کی گئی ہے۔

Griechenland Idomeni Flüchtlinge (Reuters/S. Nenov)

یورپ کو دوسری عالمی جنگ کے بعد مہاجرین کے بد ترین بحران کا سامنا ہے

 دوسری جانب یہ بھی نوٹ کیا گیا ہے کہ رواں برس مارچ میں ترکی اور یورپی یونین کے درمیان مہاجرین کے حوالے سے ہونے والے معاہدے کے بعد شام اور دیگر ممالک سے بحیرہء ایجین کے راستے یونان آنے والے تارکین وطن کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔

خیال رہے کہ یورپ کو دوسری عالمی جنگ کے بعد مہاجرین کے بد ترین بحران کا سامنا ہے۔ یورپ کو درپیش مہاجرین کے اِس بحران کے سبب مختلف یورپی ممالک کے سیاسی منظر ناموں میں بھی واضح تبدیلی رونما ہوئی ہے جبکہ مختلف یورپی ممالک میں مہاجر مخالف سیاسی پارٹیوں کی عوامی مقبولیت میں بھی اضافہ نوٹ کیا جا رہا ہے۔

DW.COM