1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورپی یونین کی ششماہی صدارت ڈنمارک کے حوالے

آج یکم جنوری سے ستائیس رکنی یورپی یونین کی ششماہی صدارت غیر یورو ملک ڈنمارک کے حوالے کر دی گئی ہے۔ ڈنمارک نے سترہ ملکی یورو زون میں پائے جانے والے معاشی بحران کے حل کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

default

ڈنمارک کے آبادی تقریباﹰ 5.6 ملین نفوس پر مشتمل ہے اور اس کا شمار یورپ کے ان چند ممالک میں ہوتا ہے، جہاں بائیں بازو کی اعتدال پسند جماعتیں برسر اقتدار ہیں۔ اس کے باوجود کہ برطانیہ اور آٹھ دیگر ملکوں کی طرح ڈنمارک یورو زون میں شامل نہیں ہے، اس کو سخت چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ڈنمارک کی سوشل ڈیموکریٹ وزیراعظم ہیلے تھورنِنگ شمٹHelle Thorning-Schmidt کے مطابق وہ آنے والے چیلنجوں سے آگاہ ہیں اور اس امر سے بھی واقف ہیں کہ  یورو زون میں شامل سترہ ملکوں کو آپس میں چند مشکل فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔

Bildergalerie Dänemark EU Ratspräsidentschaft Helle Thorning-Schmidt bei David Cameron in London

تھورننگ شمٹ نے زور دے کر کہا کہ برطانیہ کو ’یورپی فیملی‘ کا فعال رکن رہنا چاہیے

ڈینش وزیراعظم کے مطابق یہ یورپی یونین کے دو اہم ملکوں جرمنی اور فرانس کے بھی مفاد میں ہے کہ وہ یونین کے رکن ملکوں کو ان معاملات میں بھی ساتھ لے کر چلیں، جن پر ان کے اپنے تحفظات ہیں۔

تھورننگ شمٹ کا کہنا ہے کہ بحرانی حالات میں بھی ہمیں اپنے اداروں پر اعتماد کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق ڈنمارک  17 رکنی یورو زون اور 27 رکنی یورپی یونین کے مابین ایک پُل کا کام کرے گا تاکہ یورو زون میں شامل اور اس اتحاد سے باہر کے ملکوں کے مابین مزید خلا پیدا نہ ہو۔

ماہرین کی نظر میں ڈنمارک کے لیے ایسا کر سکنا کوئی آسان کام نہیں ہو گا۔ ڈنمارک کے یورپی اہداف کا حصول برطانیہ نے پہلے ہی مزید مشکل بنا دیا ہے۔ نو دسمبر کو یورپی یونین کے ایک سربراہی اجلاس میں مذاکرات کی میز چھوڑتے ہوئے برطانیہ واپس چلا گیا تھا، جس سے یورپی یونین کے ٹوٹنے کے خطرات نے جنم لیا تھا۔

تھورننگ شمٹ نے اس حوالے سے زور دے کر کہا کہ برطانیہ کو ’یورپی فیملی‘ کا فعال رکن رہنا چاہیے اور یورپ کو مجموعی طور پر اپنے ٹھوس مسائل کے ٹھوس حل تلاش کرنا چاہییں۔

یورو زون کے بحران کے علاوہ ڈنمارک کو یورپی یونین کے آئندہ کئی سالوں کے بجٹ پر پائے جانے والے اختلافات کے خاتمے کے لیے بھی کامیاب ثالثی کرنا ہو گی۔ یہ بجٹ 2014ء سے لے کر 2020ء تک کے عرصے کے لیے ہو گا۔

ڈینش سربراہ حکومت کے مطابق وہ جانتی ہیں کہ اختلافات کو کس طرح ختم کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ تین پارٹیوں کی مخلوط حکومت چلا رہی ہیں، جو کوئی آسان کام نہیں ہے۔ ان کے بقول وہ یورپ میں روزگار کے نئے مواقع اور اقتصادی ترقی کی حوصلہ افزائی کے لیے توانائی کے قابل تجدید ذرائع کی ترویج پر زیادہ توجہ دینے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: مقبول ملک

DW.COM