1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورپی یونین کی سمٹ، ’بریگزٹ‘ بنیادی ایجنڈا

یورپی یونین کے رہنما آج ایک اہم سمٹ کے لیے برسلز میں جمع ہو رہے ہیں۔ اس دو روزہ سمٹ کے دوران برطانیہ کو یونین کا رکن رکھنے کے علاوہ مہاجرین کے بحران پر بات چیت کی جائے گی۔

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کمیرون نے اٹھائیس رکنی یورپی یونین کا حصہ رہنے کی خاطر کچھ شرائط رکھیں ہیں۔ اگر یورپی رہنما اس تناظر میں کسی سمجھوتے پر نہ پہنچے تو امکان ہے کہ برطانیہ اس بلاک سے خارج ہونے والا پہلا ملک بن جائے گا۔

DW.COM

یورپی رہنماؤں کی کوشش ہو گی کہ وہ اس سمٹ کے دوران برطانیہ کو یونین کا حصہ رکھنے پر لندن حکومت کی شرائط پر کوئی ڈیل کر لیں۔

برطانیہ میں جون میں ایک ریفرنڈم کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جس میں عوام فیصلہ کرے گی کہ یورپی یونین کی رکنیت بحال رکھی جائے یا اس اتحاد سے علیحدگی اختیار کر لی جائے۔

کیمرون نے کہا ہے کہ اگر یورپی رہنما ان کی شرائط کو قبول کرتے ہیں تو وہ برطانوی عوام کا اعتماد جیتنے کی کوشش کریں گے کہ وہ اس ریفرنڈم میں یونین سے الگ ہونے کا فیصلہ نہ کریں۔

کیمرون کی طرف سے بنیادی طور پر چار شرائط رکھی گئی ہیں، جن میں مسابقت کی فضا میں بہتری، یورو زون اور یورو زون سے باہر کے ممالک کے درمیان زیادہ شفافیت، خودمختاری سے متعلق معاملات اور دیگر ممالک کے مقابلے میں تارکین وطن کے لیے برطانیہ میں رہائش کے پہلے چار سالوں میں ریاستی مراعات میں کمی لانا ہے۔

کیمرون کا سب سے زیادہ زور اس بات پر ہے کہ یورپی ممالک سے کام کرنے کی غرض سے برطانیہ پہنچنے والے افراد کو پہلے چار سالوں تک سماجی مراعات نہ دی جائیں۔

تاہم مشرقی یورپی ممالک بالخصوص پولینڈ نے اس شرط کو امتیازی قرار دے دیا ہے۔ پولینڈ اور مشرقی یورپی ممالک سے تعلق رکھنے والے شہریوں کی ایک بڑی تعداد برطانیہ میں آباد ہے۔

اس سمٹ کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے یورپی یونین کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے خبردار کیا ہے کہ ان دو دنوں کے دوران برطانیہ سے کوئی ڈیل کر لینا شائد ممکن نہیں ہو گا۔

تاہم دوسری طرف جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے کہا ہے کہ برطانیہ کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے اور توقع ہے کہ کوئی سمجھوتہ ہو جائے گا۔ میرکل برطانیہ کی طرف سے پیش کردہ ان شرائط پر متفق نظر آتی ہیں۔

Weihnachten in Syrien

اس سمٹ میں یورپی رہنما مہاجرین کے بحران پر بھی تبادلہ خیال کریں گے

اٹھارہ تا انیس فروری تک برسلز میں جاری رہنے والی اس سمٹ میں یورپی رہنما مہاجرین کے بحران پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔ یورپ پہنچنے والے زیادہ تر مہاجرین کا تعلق شام سے ہے، جو ترکی کے راستے یونان سے ہوتے ہوئے دیگر یورپی ممالک پہنچ رہے ہیں۔

یورپی یونین کی سمٹ سے قبل ترکی اور گیارہ یورپی ممالک کی ایک منی سمٹ بھی ہونا تھی تاہم بدھ کے دن انقرہ میں خونریز بم حملے کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کے بعد ترک وزیر اعظم احمد داؤد اولو نے اس سمٹ میں شرکت سے معذرت کر لی ہے۔ اس منی سمٹ میں یورپ پہنچنے والے مہاجرین کو روکنے کے حوالے سے بحث کی جانا تھی۔