1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورپی یونین کی رکنیت کے لیے جرمنی مدد کرے، وزیر اعظم ایردوآن

ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن نے دورہ جرمنی کے موقع پر برلن حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ یورپی یونین کی رکنیت کے حصول کے لیے انقرہ حکومت کی مدد کے لیے مزید کوششیں کرے۔

default

میرکل اور ایردوآن

رجب طیب ایردوآن نے یہ بیان جرمنی میں ترک مہمان کارکنوں کے پہلے قافلے کی جرمنی آمد کے پچاس برس پورے ہونے کے موقع پر دیا۔ اس مناسب سے برلن میں خصوصی تقریب ہوئی، جس میں جرمن چانسلر انگیلا میرکل بھی شریک تھیں۔

ایردوآن نے کہا، ’’ترکی چاہتا ہے کہ جرمنی یورپی یونین کی رکنیت کی کوششوں میں اس کا سب سے بڑا حامی بنے۔ ہم بہت مختلف طرز کی حمایت چاہتے ہیں۔ ہمارے درمیان خاص رشتہ ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ جرمنی میں ترک باشندوں کی بڑی تعداد کی وجہ سے بھی اس مقصد کے لیے انقرہ حکومت کی مدد کرنا برلن حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے۔

چانسلر میرکل یورپی یونین کی مکمل رکنیت کے بجائے ترکی کے لیے ترجیحی پارٹنرشپ کی حمایت کرتی ہیں۔

ترک وزیر اعظم نے جرمنی پر یہ الزام لگایا کہ وہ اپنے ہاں مختلف ثقافتوں کے انضمام کی پالیسی پر عمل درآمد میں ناکام ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں جرمن حکومت کو مزید اقدامات کرنا ہوں گے۔

انہوں نے قبل ازیں جرمن روزنامہ’ بِلڈ‘ کے ساتھ انٹرویو میں یہ الزام بھی لگایا کہ جرمنی نے یورپی یونین کی رکنیت کے لیے ترکی کی خاص مدد نہیں کی جبکہ یہاں آباد ترک باشندوں کے انضمام کو بجا طور پر تسلیم بھی نہیں کیا۔

ترک وزیر اعظم نے جرمنی پر یہ زور بھی دیا کہ وہ دہری شہریت کی اجازت دے۔ اس تقریب سے خطاب میں میرکل نے جرمن معاشرےے کے لیے ترک باشندوں کی خدمات کو سراہا۔

میرکل نے کہا کہ جرمنی کثیر الثقافتی معاشرہ بن چکا ہے اور جرمن زبان پر مکمل عبور کامیاب انضمام کی بنیاد ہے۔ انہوں نے ترک باشندوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا: ’’میں آپ کی چانسلر بھی ہوں اور ہم آپ کی حکومت بھی ہیں۔‘‘

ایردوآن نے کہا کہ ترکی جرمنی میں انضمام کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے یہاں آباد ترک باشندوں پر زور دیا کہ وہ جرمن زبان سیکھیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جرمنی میں تقریباﹰ تیس لاکھ کے قریب ترکی سے تعلق رکھنے والے افراد آباد ہیں، جن ایک تہائی جرمن شہریت رکھتی ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل / خبر رساں ادارے

ادارت: شامل شمس

DW.COM

ویب لنکس