1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی ’متاثر‘

يورپی يونين نے پانچ ماہ قبل کيتھرين ايشٹن کو خارجہ سياست کا نمائندہ اعلی منتخب کيا تھا۔ اُن کے لئے خارجہ امور کا ايک دفتر ابھی تک تکميل کے مراحل مکمل نہيں کرسکا جس سے يونين کی خارجہ پاليسی متاثر ہورہی ہے۔

default

برسلز ميں غير حکومتی تنظيميں شکايت کررہی ہيں کہ لزبن معاہدے کے نفاذ کے بعد سے خارجہ سياست ميں يورپی يونين کے واضح اصولوں کو بھی نظر انداز کيا جارہا ہے۔ يہ يقين دہانياں کرائی گئ تھيں کہ خارجہ سياست ميں يورپی يونين کی غير فعاليت عارضی ہے اور اس کی وجہ صرف يہ ہے کہ کيتھرين ايشٹن کا دفتر ابھی اپنی تشکيل کے مراحل سے گذر رہا ہے۔

تاہم انسانی حقوق کی تنظيم ايمنيسٹی انٹرنيشنل ميں يورپی يونين کی خارجہ پاليسی کے انتظامی افسر ڈيوڈ نکلس کا کہنا ہے کہ اب يہ عذر ناقابل قبول ہوتا جارہا ہے: ’’ اب ہم يہ سن رہے ہيں کہ يہ سلسلہ 18 ماہ يا 2 سال تک جاری رہ سکتا ہے۔ يہ صحيح ہے کہ ايک عبوری مدت درکار ہوتی ہے ليکن کسی قسم کا تسلسل ہونا بھی ضروری ہے۔ يورپی يونين 2 سال تک محض اس وجہ سے کاروبار بند نہيں کرسکتی کيونکہ وہ اپنے داخلی مسائل حل کرنے ميں مصروف ہے‘‘۔

ايمنيسٹی انٹرنيشنل کو، خاص طور پر سزائے موت کے سلسلے ميں کچھ عرصے سے يورپی يونين کے ناکافی رد عمل پر اعتراض ہے۔ پچھلے سال کے شروع ميں سفيد روس ميں دو افراد کو موت کی سزا سنائی گئی تھی۔ سفيد روس،يورپ اور وسط ايشيا کا وہ آخری ملک رہ گيا ہے جہاں ابھی تک سزائے موت کا قانون نافذ ہے۔ سن 2009 ميں يورپی يونين نے ان دونوں افراد کو سزائے موت دينے کی شديد مخالفت کی تھی، ليکن سال رواں کے دوران وہ اس مسئلے پر زيادہ تر خاموش ہی رہی ہے۔ مارچ کے وسط ميں ان دونوں کومنسک ميں خاموشی سے موت کی سزا بھی دے دی گئی ۔

Catherine Ashton Außenministertreffen in Brüssel

اس کے بعد يورپی يونين نے ايک احتجاجی اعلان تو جاری کيا ليکن يہ ان دونوں کی موت کے 11 دن بعد جاری کيا گيا اور اس ميں ان دونوں کے نام تک نہيں تھے اور نہ ہی اس کا کوئی ذکر تھا کہ اُن کے اہل وعيال کو سزائے موت کی اطلاع تک نہيں دی گئی اور نہ ہی نعشيں اُن کے حوالے کی گئيں۔

ہيومن رائٹس واچ کی يورپی يونين کی ڈائریکٹر لوٹے لائشت کا کہنا ہے کہ يونين کے ممالک خارجہ پاليسی کے ميدان ميں عالمی چيلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لئے مؤثر انتظامات کے بجائے داخلی کھينچا تانی ميں مصروف ہيں۔ یہ فیصلہ نہیں ہو پا رہا کہ يونين کے نئے دفتر خارجہ ميں کس ملک کو کون سے عہدے ملنا چاہئيں۔ اس وجہ سےکارکردگی پر بہت برا اثر پڑ رہا ہے۔ اگر تقررياں اہليت اور تجربے کی بنياد پر کی جائيں تو صورتحال بہت بہتر ہوسکتی ہے، ليکن اگر سياست اور اس پر زور ديا جاتا رہا کہ کن ممالک کے اميدواروں کو ترجيح دی جانا چاہئے تو يورپی يونين کی خارجہ پاليسی خراب تر ہوتی جائے گی۔

رپورٹ : شہاب احمد صدیقی

ادارت : عدنان صدیقی

DW.COM