1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورپی یونین کا موازنہ ہٹلر سے؟ لندن کے سابق میئر کی مذمت

یورپی یونین کے صدر ڈونلڈ ٹُسک نے برطانوی دارالحکومت لندن کے سابق میئر بورس جانسن کے اُس بیان کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے، جس میں اُنہوں نے یورپی یونین کا موازنہ نازی جرمنی کے لیڈر اڈولف ہٹلر کے ساتھ کیا تھا۔

Belgien Donald Tusk

یورپی یونین کے صدر ڈونلڈ ٹُسک

برطانیہ میں تئیس جون کو وہ ریفرنڈم منعقد ہو رہا ہے، جس میں رائے دہندگان برطانیہ کے بدستور یورپی یونین میں شامل رہنے یا اس سے نکل جانے کے حق میں رائے دیں گے۔ لندن کے سابق میئر نے اسی سلسلے میں اپنے ایک بیان میں یورپی یونین کے مقاصد کو اڈولف ہٹلر کے عزائم سے مماثل قرار دیا تھا۔

ڈونلڈ ٹُسک نے کہا کہ یورپی یونین برطانیہ میں یونین کی رکنیت جاری رکھنے یا ختم کرنے کے سلسلے میں جاری بحث سے اب تک الگ تھلگ ہی رہی ہے لیکن ’جب یورپی یونین کے منصوبوں اور پروگراموں کا موازنہ ہٹلر کے عزائم کے ساتھ کیا جائے‘ تو وہ خاموش نہیں رہ سکتے۔

بورِس جانسن نے، جو یہ چاہتے ہیں کہ برطانیہ یونین سے نکل جائے، گزشتہ وِیک اَینڈ پر برطانوی جریدے ’دی سنڈے ٹیلی گراف‘ کے ساتھ اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اٹھائیس رکنی یورپی بلاک ایک ایسی سُپر اسٹیٹ بنتا جا رہا ہے، جس میں نازی رہنما ہٹلر کی پورے یورپی براعظم پر غلبہ حاصل کرنے کی کوششوں کی جھلک نظر آتی ہے۔ جانسن کے مطابق گزشتہ دو ہزار سال کی تاریخ اس براعظم کو متحد کرنے کی کوششوں سے بھری پڑی ہے، جن میں نپولین اور ہٹلر کی طرف سے کی جانے والی کوششیں بھی شامل ہیں۔

اس بیان کے جواب میں ڈنمارک کے ایک دورے پر گئے ہوئے ٹُسک نے کوپن ہیگن میں کہا: ’’عموماً اس طرح کے مضحکہ خیز دلائل کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا جانا چاہیے لیکن اس کا کیا کریں کہ یہ دلائل برطانیہ کی حکمران جماعت کے با اثر ترین سیاستدانوں میں سے ایک کی جانب سے سامنے آئے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ بورس جانسن اپنے اس بیان سے معقول گفتگو کی حدوں سے تجاوز کر گئے ہیں۔

ٹُسک نے کہا کہ یورپی یونین کو بہت سے مسائل کے لیے موردِ الزام ٹھہرایا جا سکتا ہے لیکن ’یہ اب بھی یورپ کی مختلف اقوام کے درمیان کہیں زیادہ خطرناک اور اکثر المناک تنازعات کے خلاف ایک مؤثر حفاظتی دیوار کی حیثیت رکھتی ہے۔ یونین کا واحد متبادل ہے، سیاسی ابتری اور جمہوریت دشمن رجحانات کی فتح اور یوں تاریخ پھر سے خود کو دہرانے لگے گی۔‘‘

Großbritannien Boris Johnson Politiker

برطانوی دارالحکومت لندن کے سابق میئر بورس جانسن

آئندہ بھی برطانیہ کے یونین میں شامل رہنے کے حامی برطانوی حلقوں نے بھی جانسن کے بیان پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ اس طرح کے بیانات لوگوں کی توجہ اس حقیقتت سے ہٹانے کی ایک مایوسانہ کوشش ہیں کہ یونین سے اخراج کی صورت میں برطانیہ کو کتنے زیادہ منفی معاشی اثرات کا سامنا کرنا پڑے گا۔