1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورپی یونین کا مستقبل: ’برطانیہ مکالمت میں شامل رہے‘، میرکل

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے کہا ہے کہ ’بریگزٹ‘ سے متعلق جمعرات تئیس جون کو ہونے والے برطانوی ریفرنڈم کا نتیجہ کچھ بھی نکلے، یورپی یونین کے مستقبل سے متعلق مکالمت میں لندن کو آئندہ بھی شامل رہنا چاہیے۔

وفاقی جرمن دارالحکومت برلن سے جمعرات تئیس جون کی شام موصولہ نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق چانسلر میرکل نے کہا کہ برطانیہ میں ہونے والے ریفرنڈم کے نتیجے میں اگر ملکی عوام اپنے وطن کے یورپی یونین سے اخراج کا فیصلہ کر بھی لیتے ہیں، تو بھی ایک بلاک کے طور پر یورپی یونین کے مستقبل سے متعلق ہونے والی بحث ایک ’تسلی بخش اور پرسکون انداز‘ میں کی جانا چاہیے اور برطانیہ کو آئندہ بھی اس بحث کا حصہ بنے رہنا چاہیے۔

جرمن سربراہ حکومت نے، جو حالیہ ہفتوں کے دوران اس 28 ملکی بلاک میں بار بار برطانیہ کے لیے حمایت کا اظہار کرتی رہی ہیں، برلن میں کہا کہ اگر ممکن ہو تو ’بریگزٹ‘ کے منفی نتیجے کی ‌صورت میں بھی لندن کی اس یورپی بلاک کے ساتھ مشاورت مستقبل میں بھی جاری رہنا چاہیے۔

Bundeskanzlerin Angela Merkel

جرمن چانسلر میرکل

وفاقی چانسلر نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صحافیوں کو بتایا، ’’آئندہ منگل (28 جون) کو شروع ہونے والی یورپی یونین کی سربراہی کانفرنس میں ہم مل کر اور ٹھنڈے دماغ کے ساتھ یہ مشورے کریں گے کہ آئندہ بھی مشترکہ یورپی ایجنڈے پر عمل درآمد کو کس طرح یقینی بنایا جا سکتا ہے۔‘‘

برطانیہ میں اس ملک کے یورپی یونین سے ممکنہ اخراج یا پھر آئندہ بھی یونین میں شامل رہنے کے فیصلے کے لیے ایک عوام ریفرنڈم آج ہی ہو رہا ہے، جس کے ابتدائی نتائج نصف شب کے بعد آنا شروع ہوں گے۔

جرمنی میں حکمران وسیع تر مخلوط حکومت کے سیاسی رہنماؤں نے آج کے برطانوی ریفرنڈم سے قبل زیادہ تر اس بات سے اجتناب ہی کیا تھا کہ وہ اس استصواب رائے سے قبل برطانیہ میں جاری سیاسی مہم کے دوران اپنی طرف سے کوئی رائے دیں۔ اس کا مقصد زیادہ تر اس بات کو یقینی بنانا تھا کہ برطانوی عوام یہ نہ سوچیں کہ ان کے ملکی معاملات میں یورپی یونین کی طرف سے بہت زیادہ مداخلت کی جاتی ہے۔

Bundespräsident Joachim Gauck Porträt

جرمن صدر گاؤک

اسی تناظر میں وفاقی جرمن صدر یوآخم گاؤک نے بھی بلغاریہ کے دارالحکومت صوفیہ میں ایک یونیورسٹی میں اپنے خطاب کے دوران کہا کہ برطانیہ اور باقی ماندہ یونین میں ’بریگزٹ‘ سے متعلق بھرپور بحث یہ ظاہر کرتی ہے کہ کس طرح بہت سے یورپی باشندے حد سے زیادہ طاقتور یورپی یونین کے بارے میں اپنے ذہنوں میں قدرے بے چینی محسوس کرتے ہیں اور یہ کہ سیاست دانوں کو بھی اپنے فیصلوں میں ’حد سے تجاوز‘ نہیں کرنا چاہیے۔

جرمن صدر نے اپنے اس بیان کے ساتھ ہی یہ بات بھی زور دے کر کہی کہ برطانیہ کی یورپی یونین میں رکنیت سے متعلق ریفرنڈم کو اس طرح دیکھنا بھی غلط ہو گا کہ جیسے ’یورپی یونین کو کسی انتشار یا ٹوٹ پھوٹ کے عمل‘ کا سامنا ہے۔

اس سے قبل جرمن وزیر خزانہ وولفگانگ شوئبلے نے بھی اسی مہینے خبردار کرتے ہوئے کہہ دیا تھا کہ برطانیہ کے بارے میں یہ ممکن نہیں ہے کہ اس کے لیے بھی سوئٹزرلینڈ اور ناروے جیسی صورت حال پیدا ہو جائے۔ یہ دونوں یورپی ملک یونین کے باقاعدہ رکن تو نہیں ہیں لیکن وہ یورپی مشترکہ منڈی کی وجہ سے ملنے والی جملہ سہولیات سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

DW.COM