1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورپی یونین کا شامی مہاجرين کے ليے اضافی مالی امداد کا فيصلہ

برسلز ميں منعقدہ يورپی يونين کی سربراہی سمٹ ميں مشرق وسطی کے مختلف ممالک ميں موجود شامی مہاجرين کے ليے ايک بلين يورو کی اضافی امداد اور مہاجرين کی مسلسل يورپ آمد کو روکنے کے ليے تعاون بڑھانے کا فيصلہ کيا گیا ہے۔

بيلجيم کے دارالحکومت ميں بدھ اور جمعرات کی درميانی شب ہونے والی اس ہنگامی سربراہی سمٹ ميں فيصلہ کيا گيا ہے کہ اکتوبر کے وسط ميں یورپی یونین کے سربراہان کی منعقد ہونے والی باقاعدہ سمٹ سے قبل يونين کی طرف سے اقوام متحدہ کی مہاجرين سے متعلق ايجنسی UNHCR سميت ديگر ايجنسيوں کو کم از کم بھی اضافی ايک بلين يورو کی پيشکش کی جائے گی۔ يہ رقوم ترکی، لبنان، اردن اور خطے کے ديگر ملکوں ميں موجود شامی مہاجرين کی امداد کے لیے مختص کی گئی ہے۔ اس امداد کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ ایسے عوامل کو کم کیا جا سکے، جو مہاجرين کو يورپ کا رخ کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔

اجلاس ميں کيے گئے ايک اور فيصلے کے تحت يونان اور اٹلی کو نومبر تک ايسے ’ہاٹ اسپاٹس’ يا دفاتر قائم کرنے کے ليے کہا گيا ہے، جہاں نئے آنے والے مہاجرين کے ’فنگر پرنٹس‘ ليے جا سکيں اور ان کا اندراج ہو سکے۔ دونوں ملکوں کو مستحق شامی مہاجرين کی مختلف يورپی ملکوں تک منتقلی اور غير مستحق مہاجرين کی واپسی کو بھی يقينی بنانا ہو گا۔

اطالوی وزير اعظم ماتيو رينزی نے بعد ازاں کہا کہ يورپی يونين کے زير انتظام مہاجرين کی منتقلی يا انہيں ان کے وطن واپس لوٹانے کا پيکج اور بلاک کی فنڈنگ سے چلنے والی فرنٹيئر فورسز کا مطلب ہے کہ روم حکومت کے مطالبات بالآخر تسليم کر ليے گئے ہيں۔ اجلاس ميں ہنگری کے وزير اعظم وکٹور اوربان نے اپنی سرحدوں پر حال ہی ميں نصب کردہ باڑ کا پر زور دفاع کيا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت يورپی يونين کے قوانين کے مطابق کام کر رہی ہيں۔

دوسری جانب يورپی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے کہا کہ برسلز ميں ہونے والا يہ سربراہی اجلاس توقع سے زيادہ بہتر ثابت ہوا۔ ان کے بقول انہوں نے آسٹريا اور ہنگری کے ليڈران کے مابين توانائی سے بھرپور اور کافی اہم بحث ديکھی ليکن اس بحث و مباحثے ميں وہ تلخی نہ تھی، جو گزشتہ کچھ دنوں کے دوران بلاک کے شينگن زون کے ليے خطرہ محسوس ہو رہی تھی۔ يورپی کونسل کے صدر نے مزيد کہا، ’’يہ ميرے ليے کافی اہم موقع ہے کيونکہ يہ واضح ہے کہ ہم نے الزام تراشی کا خطرناک کھيل ترک کر ديا ہے۔‘‘

جرمن چانسلر انگيلا ميرکل نے بھی اجلاس ميں ہونے والی پيشرفت پر اطمينان کا اظہار کيا۔ انہوں نے کہا، ’’ہم جانتے ہيں کہ اس فيصلے سے يہ مسئلہ ختم نہيں ہوا ہے۔ البتہ ہم نے بہت سے لازمی اقدامات ميں سے ايک قدم ضرور اٹھايا ہے۔ مجھے ايسا محسوس ہوا کہ ہم مل کر اس مسئلے سے نمٹنا چاہتے ہيں۔‘‘

مختلف يورپی ممالک ميں موجود سياسی پناہ کے متلاشی افراد کے ذمہ داری برابر بانٹنے کے حوالے سے ايک مجوزہ اسکيم پر اختلافات کے بعد برسلز ميں يہ سربراہی اجلاس ہنگامی بنيادوں پر منعقد کيا گيا۔ يورپی يونين کی طرف سے جاری کردہ بيان کے مطابق اس چيلنج سے نمٹنے کے ليے ايک ساتھ مل کر يکجہتی اور ذمہ داری سے کام کرنا لازمی ہے۔