1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورپی یونین کا دوروزہ اجلاس شروع

بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں یورپی یونین کا دوروزہ سربراہ اجلاس آج سے شروع ہوگیا ہے۔

default

باروسو کی دوسری مرتبہ تقرری بھی اجلاس کے موضوعات میں شامل ہے

اس دو روزہ اجلاس میں جو اہم معاملات زیر بحث ہیں ان میں یورپی یونین کمیشن کے موجودہ سربراہ یوژے مانویل باروسو کی دوسری مدت کے لئے تقرری، آئرلینڈ میں لزبن معاہدے پر دوسری مرتبہ ریفرنڈم کرانے سے قبل اسکی عوام کو یقین دہانیوں کے علاوہ عالمی اقتصادی بحران پر قابو پانے کے لئے یورپی یونین کی کوششیں شامل ہیں۔

یورپی یونین کے 27 سربراہان مملکت اور حکومت کی جانب سے اس دوروزہ اجلاس میں پرتگال کے سابق وزیر اعظم یوژے مانویل باروسوکویورپی کمیشن کے سربراہ کے طور پر اگلے پانچ سال کے لئے بھی قائم رکھنے کی یقین دہانی متوقع ہے۔ کمیشن کے سربراہ کے طور پر یہ ان کی دوسری مدت تقرری ہوگی۔ تاہم فرانس کے علاوہ کئی ملکوں کی طرف سے جاری اقتصادی بحران پر قابو پانے کے لئے دیر سےکوششیں شروع کرنے کے باعث ان پرتنقید کی جاتی رہی ہے۔

اس اجلاس میں اقتصادی بحران پر قابو پانے کے لئے بینکنگ کے شعبے کو مزید فعال اور شفاف بنانے کے لئے بھی تبادلہ خیال کیا جارہا ہے۔ اجلاس میں مالیاتی معاملات کے لئے نئے قوانین کی منظوری بھی متوقع ہے، تاکہ مستقبل میں کسی بڑے اقتصادی بحران سے قبل ہی اس کا اندازہ لگاکر اس سے بچاؤ کی تدابیر کی جاسکیں۔

اجلاس کے آغاز سے قبل ہی جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر شٹائن مائر یورپی یونین کی جانب سے عالمی مسائل کے حل کے لئے اجتماعی کوششوں کی زور دیتے ہوئے کہہ چکے ہیں۔

’’یورپ کو کم ہمتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یورپی برادری کو داؤ پر نہیں لگانا چاہیے۔ خاص طور پر عالمگیر اقتصادی بحران کے خاتمے کے لئے اپنی اپنی قومی سطح پر انفرادی کوشش کی بجائے ہمیں یورپی یونین کی سطح پر زیادہ مؤثر طریقے تلاش کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔‘‘

یورپی یونین کے دو روزہ سربراہی اجلاس میں یونین میں اصلاحات کے لئے لزبن معاہدے پر آئرلینڈ میں گزشتہ برس ہونے والے ریفرینڈم کا معاملہ بھی زیر بحث آئے گا۔ یہ معاہدہ جنوری 2009ء سے نافذ ہونا تھا لیکن اس سے قبل یورپی یونین کے تمام رکن ممالک کا اس معاہدے کی توثیق کرنا ضروری ہے۔ آئرلینڈ کے عوام نے گزشتہ برس ہونے والے ریفرینڈم میں اس معاہدے کے خلاف فیصلہ دیا تھا۔ اب اسی معاملے پر ستمبر یا اکتوبر میں آئرلینڈ میں دوبارہ ریفرینڈم کروایا جانا ہے۔ دوبارہ ریفرینڈم سے قبل یورپی اتحاد میں شامل کئی ممالک نے آئرلینڈ کے عوام کو ان کے خدشات پر یقین دہانیاں کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ یورپی یونین کے موجودہ صدر ملک چیک ری پبلک کے وزیر برائے یورپی امور سٹیفن فیولے Stefen Füle نے اس حوالے سے کہا: ’’آئرلینڈ کے لوگوں کے ان خدشات کو دور کرنے کے لئے بھرپور یقین دہانی کروائی جانی چاہیے، جن کا انہوں نے لزبن معاہدے کے حوالے سے ہونے والے ریفرنڈم میں اظہار کیا ہے۔‘‘

آئرلینڈ کے لوگوں نے اس مرتبہ اگر لزبن معاہدے کے حق میں فیصلہ دے دیا تو اس برس کے آخر تک یورپی یونین میں نئے قوانین اور اصلاحات متعارف کروائے جانے کے امکانات ہیں۔

رپورٹ : افسر اعوان

ادارت : امجد علی

DW.COM