1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورپی یونین کا تحفظاتی اقتصادی پالیسی اختیار نہ کرنے کا فیصلہ

یورپی یونین کا برسلز میں ہونے والا ہنگامی اجلاس ختم ہوگیا ہے۔ اجلاس میں شامل رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ جاری معاشی اور اقتصادی بحران سے نمٹنے کے تحفظاتی اقتصادی پالیسیاں نہیں اپنائی جائیں گی۔

default

برسلز میں ہونے والا یورپی یونین کا ہنگامی اجلاس فرانس کے صدر نکولا سرکوزی کے تحفظاتی اقتصادی پالیسی سے متعلق بیان کے بعد بلایا گیا تھا

اس ہنگامی اجلاس میں یورپی یونین کے ان ممالک نے بھی شرکت کی جو حالیہ عالمی اقتصادی بحران کی وجہ سے سخت مشکلات کا شکار ہیں۔ ان میں ہنگری اور لیٹویا بھی شامل ہیں جہاں اقتصادی بحران سیاسی عدم استحکام کی وجہ بھی بن رہا ہے۔ ان ممالک کا مطالبہ تھا کہ طاقتور یورپی ممالک تحفظاتی اقتصادی پالیسیوں کو یورپی یونین کے مجموعی مفاد میں ترک کریں۔ ہنگری نے اقتصادی بحران سے نمٹنے کے لئے یونین سے امداد کا مطالبہ بھی کیا تھا۔

یورپی یونین کے صدر ملک چیک ری پبلک کے وزیر اعظم میرک ٹوپولانک کے مطابق یورپی یونین نے ہنگری کی جانب سے مشرقی یورپی ممالک کے لئے 180 بلین یورو کی امداد کی تجویز کو مسترد کردیا ہے۔ تاہم انہوں نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ مشکلات کے شکار یونین کے کسی بھی ملک کو اکیلا نہیں چھوڑا جائے گا۔ تاہم جرمن چانسلر اینگلا میرکل نےاس سلسلےمیں کہا کہ اقتصادی بحران کے شکار ممالک کو امداد کی فراہمی کے لئے انفرادی طور پر جائزہ لینا چاہیے۔

Merkel vor der American Academy in Berlin

جرمن چانسلر اینگلا میرکل نے اقتصادی بحران سے دوچار ممالک کی انفرادی ضروریات کا جائزہ لے کر امداد کی فراہمی کی ضرورت پر زہر دیا

یورپی یونین کا یہ اجلاس فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی کے اس اعلان کے بعد ہنگامی طور پر طلب کیا گیاتھا جس میں انہوں نے فرانس کی کار ساز صنعت کی اس صورت میں مالی امداد کی یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ اپنے ہاں ملازمتوں کو فرانس سے باہر منتقل نہیں کرے گی۔ فرانسیسی صدر کے اس اعلان سے یہ خدشہ پیدا ہوگیا تھا کہ یورپی ممالک تحفظاتی اقتصادی پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں جس سے یورپی یونین کو بحیثیت ایک دھڑے کے نقصان پہنچ سکتا ہے۔ دوسری طرف یورپی کمیشن کے صدر غوزے مانیول باروسو کا اس سلسلے میں کہنا تھا کہ مالیاتی بحران کا شکار اداروں کے لیے ریاستی بیل آؤٹ یورپی یونین کے آزاد تجارت سے متعلق معاہدوں کے خلاف نہیں جانا چاہیے۔

واضح رہے کے یہ اجلاس دو اپریل کو لندن امیں شروع ہونے والے G-20 ممالک کے اہم اجلاس سے قبل عالمی اقتصادی بحران کے تدارک کے لیے یورپی یونین کی جانب سے مشترکہ لائحہ عمل اپنانےکے سلسلے میں ہونے والے اجلاسوں میں سے ایک تھا۔ ابھی حال ہی میں اسی نوعیت کا ایک اجلاس برلن میں بھی ہوا تھا۔ ۔ عالمی اقتصادی بحران اور رکن ممالک کو درپیش معاشی مسائل کے تناظر میں یورپی یونین کے رہمنا 19 مارچ کو دوبارہ ملاقات کریں گے۔