1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورپی یونین کا بجٹ برائے 2012ء، دو فیصد اضافے پر اتفاق رائے

یورپی یونین کے رکن ممالک 2012ء کے بجٹ میں دو فیصد اضافے پر متفق ہو گئے ہیں۔ برسلز میں ہوئی 15 گھنٹے طویل ایک میٹنگ کے بعد کیے گئے اس فیصلے کو یورپی یونین نے ایک اہم پیشرفت قرار دیا ہے۔

default

ستائیس رکن ممالک پر مشتمل یورپی یونین کے رہنماؤں نے اتفاق کیا ہے کہ آئندہ مالی سال کے دوران یونین اپنے اخراجات میں دو فیصد کا اضافہ کرے گی۔ یوں 2012ء کے دوران یونین کے مجموعی اخراجات اس دو فیصد اضافے کے ساتھ 129 بلین یورو ہو جائیں گے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے یورپی یونین کے موجودہ صدر ملک پولینڈ کے نائب سیکریٹری برائے مالیات یتزک دومینک کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا، ’یہ اتفاق رائے مشترکہ طور پر کیا گیا ہے‘۔ یورپی یونین کے رہنماؤں نے جمعہ کی رات اس حوالے سے مذاکرات شروع کیے، جو رات بھر جاری رہنے کے بعد ہفتہ کی صبح اختتام پذیر ہوئے۔ ان مذاکرات کے دوران کئی رکن ممالک کا مطالبہ تھا کہ آئندہ مالی برس کے دوران یونین کے اخراجات میں پانچ فیصد سے زائد کا اضافہ کیا جائے۔

Beratungen über den EU-Haushalt in Brüssel

پولینڈ کے نائب سیکریٹری برائے مالیات یتزک دومینک، بائیں

یورپی یونین کے بجٹ کمشنر یان نوش لوانڈشوکی نے اس بجٹ کو ایک بچتی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یونین کے کئی رکن ممالک اس وقت مالی بحران کا شکار ہیں اور یہ بجٹ وقت کی عین ضرورت کے مطابق ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس بجٹ پر متفق ہونے کے بعد اب ایسے سنگین خدشات پیدا ہو گئے ہیں کہ یورپی کمیشن آئندہ برس کے دوران شاید اُس سے کیے جانے والے تمام تر مالی مطالبات کو پورا نہ کر سکے۔ یورپی کمیشن یونین کے مختلف فنڈز کے لیے سرمایہ کاری کا کام بھی کرتا ہے۔

دوسری طرف برطانیہ نے یونین کے اس بجٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ برطانوی حکام کے مطابق ایسے وقت میں جب یونین کے ممالک مالی مشکلات کا شکار ہیں، یہ ایک بہترین فیصلہ ہے۔

اقتصادی ماہرین نے یونین کے اس بجٹ کو حتمی شکل دینے کے لیے ہونے والے مذاکرات کو دیکھتے ہوئے کہا ہے کہ اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یونین کے طویل المدتی بنیادوں پر ترتیب دیے جانے والے بجٹ برائے 2014-20 کو حتمی شکل دینے کے لیے مزید سخت فیصلوں کی توقع کی جا سکتی ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: ندیم گِل

DW.COM