1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورپی یونین کا ایران کو انتباہ

یورپی یونین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران اپنے جوہری تنازعے کے حل کی راہ میں رکاوٹیں ڈالتا رہا تو اس کے خلاف نئی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔

default

ایران کو یہ تازہ دھمکی، برسلز منعقدہ یونین کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد جاری ایک مشترکہ بیان میں دی گئی ہے۔ معاملے پر حتمی فیصلہ جمعرات کو یونین کی سربراہی سمٹ میں کیا جائے گا۔

یورپی یونین کے رکن ممالک کا موقف ہے کہ ایران اپنے متنازعہ جوہری پروگرام پر بات چیت میں دلچسپی نہیں رکھتا ہے اور وہ اس سلسلے میں اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں بھی مسلسل ناکام رہا ہے۔ ایسے میں اس کے خلاف سخت اقدام اٹھائے جانے کی ضرورت ہے-

Britische Segler Iran

ایران پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ مذاکرات کے لئے سنجیدہ نہیں۔

ستائیس رکنی یورپی اتحاد نے یہ بھی عندیہ دے دیا ہےکہ اگر ایران کا یہی رویہ رہا، تو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تہران مخالف ممکنہ پابندیوں کی حمایت کی جائے گی۔ آسٹریا کے وزیر خارجہ میشائل سپنڈلیگر کا اس موقع پر کہنا تھا کہ یورپی یونین کی جانب سے ہی سلامتی کونسل میں تہران پر پابندیوں سے متعلق قرار داد پیش کی جائے گی۔ ان کے بقول اگر سلامتی کونسل سے یہ قرار داد منظور نہیں بھی ہوتی تو یونین یکطرفہ طور پر بھی ایران پر پابندیاں عائد کرسکتی ہے۔

مغربی ممالک کو شک ہے کہ ایران، پر امن جوہری ٹیکنالوجی کی آڑ میں جوہری ہتھیاروں کے حصول میں مصروف ہے تاہم ایران کا اصرار ہے کہ اس کا جوہری پروگرام ہر لحاظ سے پر امن ہے۔ سلامتی کونسل کی جانب سے ایران پر پہلے ہی مختلف نوعیت کی پابندیاں عائد کی جاچکی ہیں۔ یہ پابندیاں اس وقت عائد کی گئیں جب ایران میں یورینیم افزودگی کے پہلے پلانٹ کی بات منظر عام پر آئی تھی۔

گزشتہ ماہ جوہری توانائی کے عالمی ادارے IAEA نے ایران کو خبردار کیا تھا کہ وہ قُم شہر میں قائم ملک کے دوسرے جوہری پلانٹ میں یورینیم کی افزودگی کو فوری طور پر روک دے۔ IAEA کے پینتیس میں سے پچیس رکن ممالک نے اس قرار داد کی حمایت کی تھی، جس میں چین اور روس بھی شامل تھے۔ یہ دو ملک اس سے قبل ایران کے خلاف کسی سخت اقدام کی مخالفت کرتے رہے تھے۔

UN Sicherheitsrat

مغربی ممالک ایران کو سلامتی کونسل کی نئی پابندیوں سے خبردار کررہے ہیں۔

ایران نے ان تمام پچیس ممالک کے نام احتجاجی خطوط لکھے اور انہیں مشورہ دیا کہ وہ ماضی سے سبق سیکھیں اور اپنے رویے میں تبدیلی لائیں۔ ایرانی وزیر خارجہ منوچہر متقی کے بقول پابندیاں ایران کے لئے نئی بات نہیں اور یہ کہ پُر امن جوہری توانائی کے حصول کے لئے تہران مسلسل جدوجہد کرتا رہے گا۔

برسلز منعقدہ حالیہ اجلاس میں یورپی یونین نے تنازعے کے حل کے لئے محاز آرائی کے بجائے مذاکراتی سلسلے کو ترجیح دینے کی ضرورت بھی اجاگر کی۔ رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ یورپی اتحاد ایران کے ساتھ بات چیت کے لئے تیار ہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: گوہر نذیر گیلانی

DW.COM