1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورپی یونین: پہلے صدر اور خارجہ امور کی سربراہ نامزد

یورپی یونین میں اصلاحات کے پیکیج یعنی لزبن ٹریٹی کو حتمی منظوری ملنےکےبعد یونین نے صدر کے طور پر بیلجیئم کے وزیر اعظم رومپوئے اور برطانوی خاتون سیاستدان کیتھرین ایشٹن کو خارجہ امور کے سربراہ کے لئے نامزد کر دیا ہے۔

default

ہرمن فون رومپوئے اور کیتھرین ایشٹن

یورپی یونین کے موجودہ صدر ملک سویڈن کے وزیراعظم فریڈرک رائن فیلڈ نے جمعرات کی رات یونین کی ایک خصوصی سمٹ کے بعد ایک پریس کانفرنس میں ان ناموں کا اعلان کیا۔

انہوں نے کہا کہ یورپی یونین نےبیلجیئم کے وزیر اعظم ہرمن فان رومپوئے کو کونسل آف یونین کا پہلا صدر نامزد کر دیا ہےجبکہ لزبن ٹریٹی کو حتمی شکل دینے کے بعد ،خارجہ امور کے سربراہ کی جو دوسری اعلیٰ سطحی پوزیشن بنائی گئی تھی اس کے لئے برطانوی خاتون سیاست دان کیتھرین ایشٹن کو نامزد کیا گیا ہے، جو یونین میں ٹریڈ کمشنر کے طور پر کام کر رہی ہیں۔

یورپی یونین کے سربراہان مملکت و حکومت کی طرف سے متفقہ طور پر نامزد کئے گئے دونوں افراد کا خارجہ امور کے حوالے سے تجربہ کوئی خاص نہیں ہے۔ باسٹھ سالہ رومپوئے اور ترپن سالہ ایشٹن کو یورپی یونین سے باہر زیادہ لوگ نہیں جانتے۔ یونین کے صدر نامزد ہونے کےبعد رومپوئے نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’’ ہر یورپی ملک کی اپنی تاریخ اور تہذیب ہے، اور وہ اسی تناظر میں اپنے فرائض سر انجام دیتا ہے۔ ہمارا کام یہ ہے کہ اس حوالےسے مشترکہ مفادات تلاش کئے جائیں۔ یونین کے تمام رکن ممالک مختلف پس منظر رکھتے ہیں اور اس بات کو فراموش کرنا مضر ہوگا، ایک دوسرے کی متنوع تاریخ کو نظر انداز کرنے سے ہم کبھی بھی متحد نہیں ہو سکیں گے اور میں یہ اصول ہمیشہ یاد رکھوں گا۔‘‘

اسی طرح کیتھرین ایشٹن نے اپنے نئے منصب کو ایک چیلنج قرار دیا۔ انہوں نے کہا: ’’ میں اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سےنبھاؤں گی اور میں یہ عہد کرتی ہوں کہ یورپ کی ترقی کے لئے جو میں کر سکی وہ ضرور کروں گی۔‘‘

Herman Van Rompuy

ہرمن فان رومپوئے فی الحال بیلجئیم کے وزیر اعظم کے طور پر کام کر رہے ہیں

واضح رہے کہ برطانیہ کا اصرار تھا کہ سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلئیر کو یونین کا صدر منتخب کیا جائے تاہم حالیہ خصوصی سمٹ میں برطانوی وزیراعظم گورڈن براؤن نے ایشٹن کوخارجہ امور کی سربراہ چننے کے بعد فان رومپوئے کو صدر نامزد کرنے پر اتفاق کر لیا۔ رومپوئے کو یونین کے دو مضبوط رکن ممالک فرانس اور جرمنی کی بھر پور حمایت حاصل ہے۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل جب سمٹ میں شرکت کے لئے برسلز پہنچی تو انہوں نے کہا: ’’ ہمارا مقصد یہ ہے کہ ایسے ناموں کو سامنے لایا جائے جو یونین میں وسیع تر حمایت حاصل کر سکیں، اور اس کے لئے ہمیں متحد ہو کر کام کرنا ہوگا۔‘‘

ان دونوں عہدوں کا مقصد یہ ہے کہ عالمی برادری میں یورپی یونین کی پوزیشن مستحکم کی جائے اورعالمی اقتصادیات میں چین جیسی معیشتوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔ دونوں افراد ممکنہ طور پر یکم دسمبر سے اپنے عہدے سنبھال لیں گے۔ ان نامزدگیوں کے بعد یورپی کمیشن کےصدر یوزے مانوئیل باروسو نے کہا: ’میں ہرمن رومپوئے اور کیتھرین ایشٹن کو دلی مبارکباد دیتا ہوں۔ میرا خیال ہے کہ اس سے بہتر انتخاب ناممکن تھا''۔

امریکی صدر باراک اوباما نےیورپی یونین کے نئے صدر کی تعیناتی پر انہیں مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہےکہ اب یورپی یونین اورامریکہ کا تعلق مزید مضبوط ہوگا۔

یونین کے صدر کا انتخاب ڈھائی سال کی مدت کے لئے کیا گیا ہے اور اسے دوسری مدت کے لئے بھی منتخب کیا جا سکتا ہے۔ جبکہ خارجہ امور کے سربراہ کے عہدے کی مدت پانچ سال کے لئے ہو گی۔

رپورٹ : عاطف بلوچ

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM