1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

یورپی یونین ویزا فری سفر کے وعدے پر قائم رہے، ترکی

ترکی نے یورپی یونین کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنے وعدے پر قائم رہے کہ جون تک ترک باشندے بغیر ویزے کے شینگن زون کا سفر کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔

ترکی اور یورپی یونین کے مابین طے پانے والی ڈیل کے تحت جہاں یورپی یونین نے ترکی کو چھ بلین یورو کی امداد فراہم کرنے پر رضا مندی ظاہر کی تھی، وہیں یہ بھی کہا گیا تھا کہ یورپی یونین جون تک ترک باشندوں کو بغیر ویزا یونین کے سفر کی سہولیات بھی فراہم کرے گی۔ بیس مارچ کو نافذالعمل ہونے والی اس ڈیل کے تحت ترکی رضا مند ہوا تھا کہ وہ بحیرہ ایجیئن سے یونان پہنچنے والے مہاجرین کو واپس لے لے گا۔

اسی ڈیل کے تناظر میں ترک وزیر اعظم احمد داؤد اولُو نے خبردار کیا ہے کہ اگر برسلز جون تک اپنے وعدے کو وفا نہیں کرتا، تو یہ ڈیل غیرمؤثر ہو جائے گی، ’’یہ ایک مشترکہ عہد تھا۔ اگر یورپی یونین اس ڈیل کے تحت مطلوبہ اقدامات نہ کر سکی تو یقینی طور پر اسے بھی توقع نہیں کرنا چاہیے کہ ترکی اپنے حصے کے اقدامات پر عمل کرے گا۔‘‘

اسٹراس برگ روانہ ہونے سے قبل انقرہ کے ہوائی اڈے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے داؤد اولُو نے مزید کہا کہ اس ڈیل پر مؤثر عملدرآمد کے لیے اطراف کو کیے گئے وعدوں کو وفا کرنا ہو گا۔ قبل ازیں ترک وزیر خارجہ بھی دھمکی دے چکے ہیں کہ اگر یورپی یونین نے اس ڈیل کی شقوں پر عمل نہ کیا تو اس ڈیل کو منسوخ کیا جا سکتا ہے۔

چھ بلین یورو کی ڈیل

یورپ میں مہاجرین کی بڑی تعداد میں آمد کو روکنے کی خاطر یورپی یونین نے ترکی کے ساتھ یہ معاہدہ گزشتہ ماہ کیا تھا۔ اس کے تحت ترکی سے یورپ پہنچنے والے مہاجرین اور تارکین وطن کو زبردستی ترکی واپس روانہ کیا جانا ہے۔ اس ڈیل پر عملدرآمد کے بعد درجنوں مہاجرین کو ترکی واپس روانہ کیا بھی جا چکا ہے۔

تاہم انسانی حقوق کے عالمی اداروں نے اس ڈیل کو کڑی تنقید کا نشانہ بھی بنایا ہے۔ ایسے خدشات بھی ہیں کہ ترکی بھیجے جانے والے مہاجرین کے ساتھ نامناسب سلوک کیا جا سکتا ہے۔ لیکن انقرہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ان بے گھر افراد کو پناہ فراہم کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے گا۔

یورپی یونین نے مہاجرین کی ترکی واپسی کی اس ڈیل کے بدلے میں ترکی کو چھ بلین یورو کی امداد فراہم کرنے کی یقین دہانی تو کرائی ہی ہے لیکن ساتھ میں دیگر مراعات کی بھی بات کی گئی تھی۔ ان میں 75 ملین نفوس پر مشتمل ملک ترکی کے باشندوں کو یورپی ممالک میں بغیر ویزے کے آزادانہ نقل و حرکت کی سہولت دینے کی شق بھی شامل ہے۔

ترک وزیر اعظم نے البتہ کہا ہے ترک باشندوں کے یورپی ممالک میں آزادانہ سفر کے حوالے سے کچھ پیچیدگیاں ابھی بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انقرہ حکومت نے اس سلسلے میں کچھ مطلوبہ شرائط پوری کرنا ہیں، جو اس ماہ کے اختتام تک ہو جائیں گی۔

یہ امر اہم ہے کہ یورپی یونین کے کچھ رکن ممالک ترک باشندوں کے بغیر ویزا یورپی یونین کا سفر کرنے کے بارے میں تحفظات رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بحران کے حل کی کوششوں کے سلسلے میں یورپی یونین نے ترکی کے مطالبات کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے ہیں۔

DW.COM